پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں کمی، دو ماہ میں 5 فیصد کی سالانہ کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
جاری مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران پاکستان کی پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو سالانہ بنیاد پر 5 فیصد کم رہی۔
پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست 2025 کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر 2.538 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوا، جو کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2.
صرف اگست 2025 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 1.193 ارب ڈالر رہا، جو اگست 2024 کے مقابلے میں 14.7 فیصد کم ہے۔ گزشتہ سال اگست میں یہ درآمدی بل 1.398 ارب ڈالر تھا۔
ماہانہ بنیاد پر بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جولائی 2025 میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کا حجم 1.346 ارب ڈالر تھا، جو اگست میں گھٹ کر 1.193 ارب ڈالر رہ گیا — یوں صرف ایک ماہ میں 11.4 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
Post Views: 1
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔