جتنے بھی پیسے خرچ کر دیں سیلاب نہیں رک سکتے پاکستان میں، فلڈز تو آئیں گے، مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ آپ ایسے نالیں بنا دیں کہ سمندر کا پانی سمندر میں چلا جائے یا کچھ اس قسم کے اقدامات کر سکتے ہیں لیکن یہ سمجھنا کہ بارشیں نہیں ہوں گی کیونکہ ہم کچھ کرلیں گے تو اب بہت دیر ہو چکی ہے، کلائمٹ چینج جو دنیا مین شروع ہوگیا ہے وہ ہوگیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ جتنے بھی پیسے خرچ کر دیں سیلاب نہیں رک سکتے پاکستان میں، فلڈز تو آئیں گے، آپ ان کی شدت کم کر سکتے ہیں۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ ایسے نالیں بنا دیں کہ سمندر کا پانی سمندر میں چلا جائے یا کچھ اس قسم کے اقدامات کر سکتے ہیں لیکن یہ سمجھنا کہ بارشیں نہیں ہوں گی کیونکہ ہم کچھ کرلیں گے تو اب بہت دیر ہو چکی ہے، کلائمٹ چینج جو دنیا مین شروع ہوگیا ہے وہ ہوگیا ہے لیکن جو اٹھارہ جانیں ضائع ہوئی ہیں اس کو کلائمٹ چینج پر ڈال دیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ماسوائے جی ڈی پی گروتھ کہ جو حکومت غلط کہہ رہی ہے، اس کے علاوہ تو باقی نمبرز تو ٹھیک ہیں، اس میں کوئی بحث نہیں ہے کہ برآمدات بھی بڑھی ہیں اور درآمدات بھی بڑھی ہیں، درآمدات زیادہ بڑھی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہوگیا ہے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔