data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد :پاکستان اور جاپان کے درمیان 2019 میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جاپانی حکومت نے پہلی بار پاکستانی سرزمین پر ہنر مند افرادی قوت کے لیے مہارت جانچنے کے امتحانات (اسکل ایویلیوایشن ٹیسٹ) منعقد کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، اس پیش رفت کا مقصد جاپان کے “اسپیسفائیڈ اسکلڈ ورکرز (SSW)” پروگرام کے تحت پاکستانی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق ٹوکیو میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کامیابی سفارت خانے کی مسلسل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کے باعث پاکستانی نوجوانوں کے لیے جاپان کی لیبر مارکیٹ تک براہ راست اور سہل رسائی ممکن ہو پائی ہے۔

اعلامیے کے مطابق اگست اور ستمبر 2025 سے پاکستان میں نرسنگ اور زرعی شعبوں میں مہارت کے امتحانات منعقد کیے جائیں گے، جب کہ مارچ 2025 سے آٹوموبائل ٹرانسپورٹیشن ڈرائیورز (جیسے ٹرک، بس اور ٹیکسی ڈرائیورز) کے زمرے میں امتحانات کا آغاز پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

اس سے قبل پاکستانی امیدواروں کو ان امتحانات میں شرکت کے لیے جاپان یا کسی تیسرے ملک کا سفر کرنا پڑتا تھا جو ایک مہنگا اور پیچیدہ عمل تھا،اب پاکستان میں ہی یہ ٹیسٹ منعقد ہونے سے نہ صرف عمل مزید شفاف اور آسان ہوگا بلکہ زیادہ نوجوان اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

سفارت خانے کاکہنا تھا کہ جاپانی حکومت نے ایس ایس ڈبلیو پروگرام کے تحت 2029 تک تین اہم شعبوں میں بیرونی افرادی قوت کے لیے اہداف مقرر کیے ہیں، جن میں نرسنگ کیئر کے لیے 1,35,000، زراعت میں 78,000 اور آٹوموبائل ٹرانسپورٹیشن ڈرائیورز کے لیے 24,500 افراد شامل ہیں۔

بیان میں اس اقدام کو پاکستانی نوجوانوں کے لیے جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں ملازمت کے دروازے کھولنے اور ملک میں ترسیلات زر میں اضافے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، وہ جاپانی زبان سکھانے اور مہارت یافتہ افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

سفارت خانے نے مزید کہا کہ امتحانات کے شیڈول، درخواست کے طریقہ کار اور متعلقہ تربیتی وسائل کے بارے میں معلومات کے لیے امیدوار یا تربیتی ادارے سفارت خانے کے کمیونٹی ویلفیئر ونگ سے رابطہ کریں یا سفارت خانے کی سرکاری ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سفارت خانے کے لیے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ