ذاتی حملے کرنے پر نادیہ خان کا فنکاروں کو سخت جواب، قانونی کارروائی کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ اور مارننگ شو کی میزبان نادیہ خان نے ان فنکاروں اور اینکرز کو دو ٹوک پیغام دے دیا ہے جو ان پر ذاتی نوعیت کے تبصرے کر رہے ہیں، اور خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ ایسا ہوا تو قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
نادیہ خان نے شوبز میں بطور اداکارہ اپنے سفر کا آغاز کیا، مگر ان کی اصل شناخت مارننگ شوز کے ذریعے بنی، جہاں وہ خواتین کےلیے خصوصی سیگمنٹس کے ساتھ اسکرین پر نظر آتی ہیں۔ ان کا شو نہ صرف عوام بلکہ شوبز شخصیات کی تنقید کا بھی مرکز بنتا رہا ہے، اور حالیہ دنوں میں اس شو کے مختلف حصوں پر اداکاروں کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کھل کر سامنے آیا ہے۔
معروف اداکار فیصل قریشی، ثروت گیلانی، بہروز سبزواری اور یاسر حسین سمیت متعدد فنکار شو پر تنقید کرچکے ہیں، جبکہ حال ہی میں سینئر اداکارہ صبا فیصل نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں نادیہ خان اور دیگر میزبانوں پر برہمی کا اظہار کیا۔ ان تنقیدوں کے بعد نادیہ خان نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو کے ذریعے واضح پیغام دیا کہ وہ مزید برداشت نہیں کریں گی۔
اپنی ویڈیو میں نادیہ خان نے کہا کہ اگر اب کسی نے ان پر ذاتی حملے کرنے کی کوشش کی تو انہیں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اخلاقیات کو پیسے اور شہرت کےلیے بیچا جائے تو پھر قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ نادیہ خان کے مطابق وہ نہ صرف کریمنل ڈیفیمیشن بلکہ سول ڈیفیمیشن اور پیکا قوانین کے تحت بھی کیس دائر کریں گی، جس کے بعد ان افراد کو برسوں تک عدالت کے چکر لگانے پڑیں گے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ ان کی آخری وارننگ ہے، اور آئندہ اگر کوئی ذاتی حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔ ان کے بقول، اب بہت ہو چکا ہے اور اگر کسی نے ذاتی نوعیت کا تبصرہ کیا تو اسے قانونی سطح پر جواب دینا ہوگا۔
سوشل میڈیا پر اس بیان کے بعد صارفین کی آرا تقسیم ہوگئی ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نادیہ خان کا یہ اقدام درست ہے اور کسی کو ذاتیات پر حملے کرنے کا حق نہیں، جبکہ کچھ صارفین کا ماننا ہے کہ جو تنقید دوسروں پر کرنے میں نادیہ خان کو کوئی مسئلہ نہیں، وہی تنقید جب ان پر ہوئی تو انہوں نے اعتراض اٹھا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نادیہ خان نے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔