نیتن یاہوکو کرپشن مقدمات میں معافی دی جائے؛ ٹرمپ کا اسرائیلی صدر سے مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر سے درخواست کی ہے وہ کرپشن کے مقدمات میں اسرائیلی وزیر اعظم کو معاف کردیں۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دفتر کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خط میں اسرائیلی صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو معافی دینے پر غور کریں۔
نیتن یاہو طویل عرصے سے کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور ٹرمپ متعدد بار اپنے قریبی اتحادی کے لیے معافی کی درخواست کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے خط میں لکھا کہ ’میں اسرائیلی عدالتی نظام کی آزادی کا احترام کرتا ہوں، تاہم میرا ماننا ہے کہ نیتن یاہو، جو خاص طور پر ایران سے دشمن کے خلاف میرے ساتھ طویل عرصے سےکھڑے رہے، ان کیخلاف مقدمہ سیاسی اور بلاجواز ہے‘۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر کی جانب سے کسی کو معافی دینے کے لیے ضروری ہے کہ معافی کی درخواست باقاعدہ قانونی طریقۂ کار کے تحت جمع کروائی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں اسرائیل کے دورے کے دوران ٹرمپ نے کینیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے بھی اسحاق ہرزوگ پر زور دیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کو معاف کر دیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں 3 مقدمات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی، نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انہوں نے کاروباری شخصیات سے تقریباً 7 لاکھ شیکل (تقریباً 2 لاکھ 11 ہزار امریکی ڈالر) مالیت کے تحائف وصول کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی صدر نیتن یاہو
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔