اسلام آباد ،سندھ،پشاور اور بلوچستان ہائیکورٹس کے چیف جسٹز نے عہدے کا حلف اٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد/کراچی /پشاو ر / کوئٹہ (نمائندگان جسارت +اسٹاف رپورٹر)اسلام آباد، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہائی کورٹس کے چیف جسٹس نے عہدے کا حلف اٹھالیا۔صدر زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے ایوانِ صدر اسلام آباد میں حلف لیا۔ تقریب میں آئی ایچ سی کے ججوں، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، وزیر اعلیٰ پنجاب
مریم نواز، وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور وکلا برادری نے شرکت کی۔دوسری جانب سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہائی کورٹس میں بھی نئے چیف جسٹس صاحبان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔الگ الگ تقریبات میں جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) کے چیف جسٹس کے طور پر، جسٹس روزی خان بڑیچ نے بلوچستان ہائی کورٹ (بی ایچ سی) کے چیف جسٹس کے طور پر، اور جسٹس جنید غفار نے سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) کے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے چیف جسٹس محمد جنید غفار سے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کے بعد چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے روایتی طور پر مزار قائد پر حاضری دی، جہاں انہوں نے پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔ اس موقع پر پاکستان نیوی کے چاق و چوبند دستے نے سلامی بھی پیش کی۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس محمد جنید غفار کا کہنا تھاکہ اپنے فرائض دیانتداری اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کروں گا، ماتحت عدالتوں میں ججز کی تقرریوں کا عمل شروع کیا جاچکا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ماتحت عدالتوں میں ججز کی تقرریوں کا عمل شروع کیا جا چکا ہے اور جلد ہی سول ججز کی تقرریاں بھی عمل میں لائی جائیں گی، جس سے عدالتی نظام پر پڑنے والا دباؤ کم ہوگا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آئین میں ترمیم کے بعد عدالت نے آئینی اور ریگولر بینچز کی کیٹیگریز متعین کی ہیں جب کہ بینچز کے دائرہ اختیار سے متعلق ابہام کو ختم کرنے کے لیے لارجر بینچز تشکیل دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں کچھ الجھن ضرور تھی لیکن وقت کے ساتھ سب واضح ہوجائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلوچستان ہائی اسلام ا باد کے چیف جسٹس عہدے کا حلف ہائی کورٹ ایچ سی
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔