کیس کا فیصلہ سنتے ہی ملزم نے جج پر فائرنگ کر دی، جج جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
البانیہ کے دارالحکومت ترانا میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں عدالت میں کیس کا فیصلہ سنتے ہی ملزم نے جج پر فائرنگ کر دی، جس سے جج موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پراپرٹی تنازع کے کیس کے دوران پیش آیا۔ فائرنگ سے جج ایسترت کلاجا شدید زخمی ہوئے اور اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گئے۔
واقعے میں کیس کے درخواست گزار باپ اور بیٹا بھی گولیوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہو گئے، تاہم اسپتال حکام کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس نے 30 سالہ حملہ آور ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا، جبکہ اس کے سکیورٹی گارڈ چچا کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے ملزم کو پستول کے ساتھ عدالت میں داخل ہونے دیا۔
پولیس کے مطابق جج نے جیسے ہی کیس کا فیصلہ سنایا، ملزم نے غصے میں آکر پستول نکالی اور جج پر کئی گولیاں داغ دیں۔ اس کے بعد اس نے درخواست گزار باپ بیٹے پر بھی فائرنگ کی، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔