کیس کا فیصلہ سنتے ہی ملزم نے جج پر فائرنگ کر دی، جج جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
البانیہ کے دارالحکومت ترانا میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں عدالت میں کیس کا فیصلہ سنتے ہی ملزم نے جج پر فائرنگ کر دی، جس سے جج موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پراپرٹی تنازع کے کیس کے دوران پیش آیا۔ فائرنگ سے جج ایسترت کلاجا شدید زخمی ہوئے اور اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گئے۔
واقعے میں کیس کے درخواست گزار باپ اور بیٹا بھی گولیوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہو گئے، تاہم اسپتال حکام کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس نے 30 سالہ حملہ آور ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا، جبکہ اس کے سکیورٹی گارڈ چچا کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے ملزم کو پستول کے ساتھ عدالت میں داخل ہونے دیا۔
پولیس کے مطابق جج نے جیسے ہی کیس کا فیصلہ سنایا، ملزم نے غصے میں آکر پستول نکالی اور جج پر کئی گولیاں داغ دیں۔ اس کے بعد اس نے درخواست گزار باپ بیٹے پر بھی فائرنگ کی، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔