پاکستان اور دبئی اسلامک بینک کے درمیان ایک ارب ڈالر فنانسنگ کا معاہدہ طے پا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان اور دبئی اسلامک بینک کے درمیان ایک ارب ڈالر فنانسنگ کا معاہدہ طے پا گیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کا دبئی اسلامک بینک کے ساتھ ایک ارب ڈالر کا اسلامی فنانسنگ معاہدہ پاگیا، دبئی اسلامک بینک سے ایک ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ 5 سال کی مدت کیلئے ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق معاہدے کیلیے ایشیائی ترقیاتی بینک نے پالیسی بیسڈ فنانسنگ کیلئے جزوی گارنٹی فراہم کی ہے، فنانسنگ کے تحت 89 فیصد فنڈز اسلامی اصولوں پر مبنی ہیں۔یہ معاہدہ پاکستان کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے، معاہدے کیلئے دبئی اسلامک بینک نے اسلامک گلوبل کوآرڈینیٹر کا کردار ادا کیا۔
معاہدے میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، ابوظبی اسلامک بینک، عجمان بینک اور شارجہ اسلامک بینک بھی شریک ہیں، یہ پانچ سالہ ملٹی ٹرانچ معاہدہ اسلامی اور روایتی فنانسنگ پر مشتمل ہے جس میں اسلامی فنانسنگ کا حصہ 89 فیصد اور روایتی فنانسنگ فیصد ہے۔معاہدے کو اے ڈی بی کی پالیسی بیسڈ گارنٹی سے جزوی تحفظ حاصل ہے جس نے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ شمولیت کو ممکن بنایا۔
حکام کے مطابق پونے تین سال بعد پاکستان کی مشرق وسطی کے مالیاتی بازاروں میں واپسی ہوئی ہے جس سے حکومت اور مشرق وسطی کے بینکوں کے درمیان نئے مالی تعلقات کا آغاز ہوا ہے، اے ڈی بی کی گارنٹی سے پاکستان کی عالمی منڈیوں میں دوبارہ شمولیت ممکن ہوئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرروس کا یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ، 741میزائل داغ دیے روس کا یوکرین پر اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ، 741میزائل داغ دیے حج 2026،رجسٹریشن کی آخری تاریخ میں دو دن کی توسیع چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، باکو کے ہارٹیکلچر ماہرین کی شرکت ، شہر اقتدار کی خوبصورتی کے حوالے سے اقدامات پر.

.. جسٹس محسن اختر کیانی کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی سنیارٹی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، کمرشل پلاٹوں کی 15سے 17جولائی تک اوپن نیلامی کا فیصلہ مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں خواتین کی 2 مخصوص نشستوں کیلئے ٹکٹ جاری کردیے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: دبئی اسلامک بینک کے ایک ارب ڈالر فنانسنگ کا کے درمیان کا معاہدہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس