اسلام آباد:

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری  نے کہا ہے کہ صرف غریب آدمی نہیں بلکہ بڑی بڑی صنعتیں، فرنس آئل پلانٹس بھی بجلی چوری میں ملوث ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے  وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری  نے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں سے ہونے والے نقصانات عوام کے سامنے رکھنے ہیں۔ ڈسکوز نے سال 23,24 میں 591 ارب کے نقصانات کا بوجھ ڈالا۔ اگر یہ نقصانات نہ ہوتے تو ملک کا قرضہ اتارنے میں آسانی ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ پوری حکومت اور کابینہ نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ حکومت نے بڑے عزم کے تحت ان ڈسکوز کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا اور ڈسکوز کے بورڈ میں اپنی سوچ اور حکمت عملی کے تحت تعنیاتی کی۔ پاور ڈویژن نے ڈسکوز میں سفارشات کا کلچر ختم کیا۔

اویس لغاری نے کہا کہ ایک سال بعد گڈ گورننس کے تحت ڈسکوز کے نقصانات کو کم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وزیر اعظم کی لیڈر شپ اور ڈسکوز کے بورڈ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 30 جون 2025 تک ڈسکوز کے نقصانات کو 191 ارب روپے کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ 100 ارب روپے بتدریج نقصانات کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ گزشتہ سال 591 ارب کے مقابلے اب 399 ارب کے نقصانات ہوئے۔ ڈسکوز میں دو طرح کے نقصانات ہیں ۔ ڈسکوز نے گزشتہ سال بلوں کے 315 ارب روپے ریکور نہیں کیے تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بلوں کی ریکوری کو 96 فیصد تک لے کر گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی چوری کی مد میں گزشتہ سال 276 ارب روپے کی بجلی چوری کی گئی۔ کچھ ڈسکوز نے بہت اچھا کام کیا اور چوری کم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ نقصانات کی مد میں جو صرف بجلی چوری کے نقصان کم ہوئے وہ 10 سے 11 ارب ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ بجلی چوری صرف غریب آدمی نہیں کرتا، بڑی بڑی صنعتیں، فرنس آئل پلانٹس بھی بجلی چوری میں ملوث ہیں۔ لیسکو نے سب سے بہتر کام کیا اور نقصانات کم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ لیسکو نے بجلی چوری میں ملوث بہت بڑی کارروائی کی۔ ایک بڑی صنعت جتنی چوری کرتی ہے، اتنی چوری پورا ایک دیہات میں نہیں ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال بہتری کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور آئندہ سال نقصانات مزید کم ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بجلی چوری میں ملوث کم کرنے میں کامیاب کے نقصانات اویس لغاری نے کہا کہ ڈسکوز کے ارب روپے

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش