پاکستانی زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران ایک ارب 77 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 14 ارب 50 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی ذخائر مارچ 2022ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری اعداد و شمار کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران ایک ارب 77 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے اور زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت 14 ارب 50 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 20 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے اور 4 جولائی کو زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 20 ارب 2 کروڑ 87 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی۔ اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 52 کروڑ 65 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر ذخائر کی مالیت ڈالر کی سطح پر لاکھ ڈالر
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔