پاکستان پوسٹ کی جلد نجکاری کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
ملکی معیشت پر بڑا بوجھ سمجھے جانے والے قومی اداروں کے نجکاری کی باتیں کئی سالوں سے جاری ہیں، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز سمیت مختلف اداروں کو نجکاری کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری کی تو ایک مرتبہ کوشش بھی کی گئی تاہم یہ عمل مکمل نہ ہو سکا، جلد نجکاری کے لیے بعض اداروں کو نجکاری فہرست میں اول نمبر پر رکھا جاتا ہے کہ جن اداروں کی فوری نجکاری کی ضرورت ہے، اس فہرست میں پاکستان پوسٹ کا نام شامل نہیں تھا جسے اب شامل کرنے اور دسمبر 2025 تک نجکاری کرنے کی سفارشات کابینہ کی رائٹ سائزنگ کمیٹی نے وفاقی کابینہ کو بھیج دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان پوسٹ میں ملازمت کے مواقع بند، 1500 سے زائد آسامیاں ختم
وفاقی کابینہ کی رائٹ سائزنگ کمیٹی کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات کے مطابق پاکستان پوسٹ آفس بڑے مالی خسارے کا شکار ہے، جبکہ اس کو چلانے کے لیے قومی خزانے سے اربوں روپے لگائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق پاکستان پوسٹ کا سالانہ بجٹ 21 ارب روپے سے زائد ہے جبکہ اس کی آمدنی صرف 9 ارب روپے ہے بقیہ 12 ارب روپے سے زائد رقم قومی خزانے سے ادا کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان پوسٹ نے عوامی سہولت کے لیے کیا بڑا فیصلہ کیا؟
وفاقی کابینہ کی رائٹ سائزنگ کمیٹی کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ان اداروں کی نشاندہی کریں جو کہ قومی خزانے پر بوجھ ہیں اور جن کی نجکاری کی ضرورت ہے۔ اس پر رائٹ سائزنگ کمیٹی نے پاکستان پوسٹ افس کو ترجیحی بنیادوں پر نجکاری کرنے والے اداروں کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان پوسٹ کی نجکاری بھی رواں سال دسمبر تک مکمل کر لی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان پوسٹ ڈاک معیشت نجکاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پوسٹ ڈاک نجکاری رائٹ سائزنگ کمیٹی پاکستان پوسٹ نجکاری کی فہرست میں کے لیے
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔