علی امین گنڈا پور کی لاہور آمد، پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کا ایجنڈا سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ تحصیلوں میں ورکر کنونشن اور گلیوں میں کارنر میٹنگز منعقد کروائی جائیں گی، ایم پی اے، ایم این اے اپنے حلقوں میں عوام کو موبلائز کریں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے پچھلے احتجاجوں کا آغاز اسلام آباد یا کے پی سے ہوا جس کے باعث پنجاب کی کارکردگی کچھ خاص نہ رہی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِ اعلیٰ کے پی کے کی لاہور آمد کا معاملہ پر پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کا ایجنڈا سامنے آ گیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں بانی پی ٹی آئی اور قیادت کی رہائی کی تحریک کے لئے عوام کو موبلائز کرنے کی مشاورت ہو گی، ایک سڑک یا چوک بند کرنے کا منصوبہ ڈراپ کر دیا گیا، لانگ مارچ زیر بحث آئے گا، پارلیمنٹیرینز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹکٹ ہولڈر اپنے حلقے میں پر امن احتجاج کریں، تجویز دی جائے گی، آج پارلیمنٹیرینز کی اکثریت کی بنیاد پر تحریک کا لائحہ عمل طے ہو گا، حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے، اس تحریک میں پنجاب کی عوام پر فوکس کیا جائے گا۔
پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ تحصیلوں میں ورکر کنونشن اور گلیوں میں کارنر میٹنگز منعقد کروائی جائیں گی، ایم پی اے، ایم این اے اپنے حلقوں میں عوام کو موبلائز کریں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے پچھلے احتجاجوں کا آغاز اسلام آباد یا کے پی سے ہوا جس کے باعث پنجاب کی کارکردگی کچھ خاص نہ رہی، اس لئے اس تحریک کا آغاز پنجاب خصوصاً لاہور سے شروع کیا جائے گا جب کہ علی امین گنڈاپور کل باقاعدہ تحریک کے لائحہ عمل کا اعلان پریس کانفرنس میں کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کریں گے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔