ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما کا ’’اسلام ٹائمز‘‘ سے خصوصی گفتگو میں کہنا تھا کہ وزیر داخلہ صاحب، آپ کہتے ہیں بلوچستان ایک ایس ایچ او کی مار ہے، تو آپ ایک ایس ایچ او تعینات نہیں کر سکتے؟ زائرین کیلئے راستوں کی بندش عالمی استعمار کا ایجنڈا ہے، استعمار نہیں چاہتا کہ اربعین کا اجتماع ہو، حکومت استعماری ایجنڈے کو فسلیٹیٹ کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما سید ناصر عباس شیرازی نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زائرین کیلئے زمینی راستوں کی بندش کسی طور بھی قابل قبول نہیں، یہ اقدام ہمارے بنیادی آئینی حقوق پر ضرب لگانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود لاکھوں زائرین انہی راستوں سے سفر کرتے ہوئے زیاراتِ مقامات مقدسہ کیلئے جاتے ہیں۔ ناصر شیرازی نے کہا کہ وزیر داخلہ کے دورہ کوئٹہ سے توقع تھی کہ زائرین کو ریلیف دیا جائے گا، مگر محسن نقوی نے امریکہ و اسرائیل کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ زیادہ تر زائرین متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، یہ عاشقان اہلبیت ساری زندگی رقم بچا بچا کر جمع کرتے ہیں اور زیارات پر جاتے ہیں، ان کا یہ بنیادی حق ہے، مگر افسوس حکومت انہیں سہولت دینے کی بجائے رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

ناصر شیرازی نے کہا کہ آپ کہتے ہیں بلوچستان ایک ایس ایچ او کی مار ہے، تو آپ ایک ایس ایچ او تعینات نہیں کر سکتے؟ انہوں نے کہا کہ زائرین کیلئے راستوں کی بندش عالمی استعمار کا ایجنڈا ہے، استعمار نہیں چاہتا کہ اربعین کا اجتماع ہو، حکومت استعماری ایجنڈے کو فسلیٹیٹ کر رہی ہے۔ ناصر شیرازی نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ روٹ محفوظ بنائے اور اس کیساتھ ساتھ فیری سروس شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کا روٹ بھی ہے، یہ سکیورٹی کا بہانہ ریاست کی ناکامی ہے، یہ کسی طور قابل قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا زیادہ فلائٹس کا اعلان اس کا راہ حل نہیں، نہ اتنی تعداد میں حکومت پروازیں فراہم کر سکتی ہے اور نہ ہر زائر بائی ایئر اخراجات افورڈ کر سکتا ہے، اس لئے ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر زمینی راستوں کو کھولا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ راستوں کی بندش ایک ایس ایچ او زائرین کیلئے

پڑھیں:

24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا

علامتی فوٹو

حکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔

اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔

یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلی

علم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔

اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنیوالی خواتین کا مانع حمل آپریشن کر دینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا فوری طور پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ 
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم