اسحاق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی ٹیلیفونک گفتگو، تجارتی محصولات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کی شب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں باہمی دلچسپی کے اہم امور، خصوصاً تجارتی محصولات پر بات چیت کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ گفتگو گزشتہ جمعہ کو واشنگٹن میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے تسلسل میں ہوئی، جس میں دوطرفہ معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے محصولات کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50, spoke to the U.
Following up on their productive meeting last Friday in Washington D.C., they discussed key bilateral matters,… pic.twitter.com/HDNX275NYe
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 28, 2025
گفتگو میں علاقائی و عالمی معاملات پر بھی بات چیت کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کی ملاقات، فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق
اس سے قبل اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کے درمیان واشنگٹن میں پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی تھی، جس میں 2 طرفہ تعلقات کو وسعت دینے، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ٹیکنالوجی، اور معدنیات جیسے شعبوں میں تعاون پر بات کی گئی تھی۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان امریکا تجارتی مذاکرات میں پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کے لیے امید ظاہر کی۔ اسحاق ڈار نے امریکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کو ایک پرکشش منزل قرار دیا۔
علاقائی سلامتی کے حوالے سے انسداد دہشتگردی تعاون اور امن کے فروغ کی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی قیادت کی عالمی امن کے لیے کوششوں، خصوصاً پاکستان بھارت حالیہ کشیدگی میں صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہا۔
مزید پڑھیں: پاکستان امریکا تعلقات کو پاک چین دوستی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، اسحاق ڈار
مارکو روبیو نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے خطے اور دنیا میں امن کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستانی نژاد امریکی برادری کے دو طرفہ تعلقات میں پُل کا کردار ادا کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پاکستان امریکا تجارتی مذاکرات واشنگٹن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پاکستان امریکا تجارتی مذاکرات واشنگٹن مارکو روبیو اسحاق ڈار کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔