بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلیٰ بنایا، ان کے اعتماد کی وجہ سےمیں یہاں بیٹھا ہوں،علی امین گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان سے باہر نہیں جاؤں گا۔
روزنامہ جنگ کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مفروضے بنائے جاتے ہیں اور شوشے چھوڑے جاتے ہیں جن کا مقصد تحریک کو نقصان پہنچانا ہے، بانی پی ٹی آئی نے کبھی نہ خواہش ظاہر کی اور نہ سوچا کہ ملک چھوڑ کر جائیں گے۔علی امین گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلیٰ بنایا، ان کی حکومت ہے، ان کا مینڈیٹ ہے، بانی کا اعتماد ہے تو میں یہاں بیٹھا ہوں، سازشوں کا حصہ بننے والے بانی کے نہیں مخالفین کے ایجنڈے پر ہیں۔
بھارت میں خاتون نے اپنے بوائے فرینڈ کو اپنی بیوی اور بچوں سے ملنے پر قتل کردیا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ مذاکرات سے مسائل کو حل کرنا چاہیے، آپریشن مسئلے کا حل نہیں، پہلے بھی آپریشن کرچکے ہیں لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں افغانستان سے تعلقات ٹھیک کرنے پڑیں گے، افغانستان سے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ لوگوں کے اعتماد کے بغیر نہ جنگ لڑ سکتے ہیں اور نہ جیت سکتے ہیں، لوگوں کا اداروں پر اعتماد بحال ہونا ضروری ہے، حکومت، اداروں اور عوام میں اعتماد نہیں ہوگا تو کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ مسائل پر کھل کر بات نہ ہو تو چھوٹا مرض کینسر بن جاتا ہے، جب تک امن نہیں ہوگا ترقی نہیں ہوسکتی، عوام کے اعتماد کے ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔
پنجاب بھر میں قومی پرچموں کی بہار آ گئی، گلیاں، بازار، چوک چوراہے، راستے سجا دیئے گئے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی نے وزیر اعلی نے کہا کہ علی امین
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔