گلگت بلتستان : وزیراعظم شہباز شریف نے میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے 4 ارب کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران سیلاب متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے 4 ارب روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اعلان کردہ امدادی رقم چند روز میں وفاق کی جانب سے جی بی حکومت کو فراہم کر دی جائے گی۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان گل بر خان نے ملاقات کی اور انہیں جے بی میں حالیہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور اس سے ہونے والے تباہی سے آگاہ کیا۔انہوں نے وزیراعظم کو ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا جب کہ اس موقع پر گلگت بلتستان میں امن وامان کی صورتحال اور ترقیاتی کاموں پر پیش رفت پر بھی گفتگو ہوئی۔اس ملاقات کے حوالے سے ترجمان جی بی حکومت کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے وزیراعظم کو سیلابی نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سیلابی تباہی سے 20 ارب سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے گرانٹ منظور کرنے کی سفارش کی۔

علاوہ ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت گلگت بلتستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس ہوا۔ جس میں انہیں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے جی بی میں ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ دنوں میں جی بی میں مختلف مقامات پر شدید بارشوں سے تباہی ہوئی۔ جی بی میں مختلف مقامات پر کلاؤڈ برسٹنگ نے تباہی پھیلائی۔ دیامر، بابوسر، گانچھے سمیت دیگر علاقے بھی تباہ ہوئے۔ وفاقی ادارے گلگت بلتستان حکومت سے رابطے میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے دنیا کے 10 شدید متاثر ممالک میں شامل ہے جب کہ کاربن گیس کے اخراج کے حوالے سے پاکستان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ 2022 میں بھی سیلاب سے تباہی آئی اس کی بھی وجہ یہی تھی۔ ہمارے ملک میں ہر سال کم یا زیادہ ایسی تباہی آتی ہے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی ،سیکریٹری اور ٹیم کو واضح ہدایت دی ہے۔ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومت کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کیانہوں نے ہدایت کی کہ سیاحتی مقامات کیلیے موسم کے اعتبار سے پیشگی آگہی کا نظام تشکیل دیا جائے اور مقامی آبادیوں کو پانی کی قدرتی گزرگاہوں سے دور بحال کیا جائے۔ اس کے علاوہ محکمہ موسمیات کے پیشگی اطلاع کے نظام کو مزید فعال اور مربوط بنایا جائے۔وزیراعظم نے آئندہ چند ماہ میں گلگت بلتستان میں پیشگی اطلاعات ومانیٹرنگ سینٹر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے ہنگامی صورتحال میں فوری ریسکیو و مدد کیلیے ایک جامع نظام تشکیل دینے، حالیہ مون سون سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کیلیے اقدامات کو جلد مکمل اور تمام علاقوں کے مواصلاتی روابط کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

واضح رہے کہ حالیہ مون سون کے دوران گلگت بلتستان میں کلاؤڈ برسٹ سے ہونے والی غیر معمولی طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 10 سے زائد سیاح سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق جب کہ کئی اب تک لاپتہ ہیں۔سیلاب سے 500 سے زائد مکانات، 12 کلومیٹر سے زائد سڑکیں تباہ ہوئیں.

27 پل اور 22 گاڑیاں سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئیں جبکہ کئی مساجد، اسکول، ہوٹلرز، دکانیں، مویشی خانے تباہ اور ہزاروں فٹ لکڑی ریلوں میں بہہ گئیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: طوفانی بارشوں اور سیلاب گلگت بلتستان میں متاثرہ علاقوں کا اعلان سیلاب سے

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف