ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا،مجموعی ٹیرف 50 فیصد ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
یہ ضروری اور مناسب فیصلہ ہے کہ بھارت سے درآمدات پر ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے ،امریکی صدر
بھارت کی حکومت روس سے براہ راست یا بالواسطہ تیل درآمد کر رہی ہے، جرمانہ بھی ہوگا،وائٹ ہاؤس سے جاری اعلامیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے درآمدات پر مزید 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کے بعد بھارت پر مجوعی ٹیرف 50 فیصد ہو گیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا گیا۔وائٹ ہاؤس سے جاری ایک ایگزیکٹو آرڈر میں ٹرمپ نے کہا کہ بھارت کی حکومت روس سے براہ راست یا بالواسطہ تیل درآمد کر رہی ہے۔مزید بتایا گیا کہ لاگو قوانین کے مطابق بھارت سے درآمد شدہ اشیا پر امریکا کی کسٹم حدود میں اضافی 25 فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ’ضروری اور مناسب‘ فیصلہ ہے کہ بھارت سے درآمدات پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے کیونکہ نئی دہلی براہ راست یا بالواسطہ روسی تیل درآمد کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بھارت سے درا مد ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔