اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء  اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایف آئی اے نے بحریہ ٹائون کرپشن کیس میں ایک ارب 12 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کے ناقابل تردید شواہد حاصل کرلئے ہیں۔ سفاری ہسپتال کو منی لانڈرنگ کے لئے فرنٹ آفس کے طور پر استعمال کیا گیا جبکہ ریکارڈ اور کیش کی ترسیل ایمبولینس کے ذریعہ  کی جاتی رہی۔ یہ ایک منظم کرپشن نیٹ ورک تھا جس کے ذریعہ  اربوں روپے غیر قانونی طریقہ سے بیرون ملک منتقل کئے گئے۔ بدھ کو اہم گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بحریہ ٹائون کرپشن کیس کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ یہ کارروائی ایف آئی اے کی جاری تحقیقات کا حصہ تھی جس میں چھاپوں کے ذریعہ  شواہد اور دستاویزات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چھاپے کے دوران بحریہ ٹائون کے کرنل (ر) خلیل کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ عمران اور قیصر نامی افراد جو ہنڈی حوالہ کا نیٹ ورک چلا رہے تھے، کے بحریہ ٹائون کے چیف فنانشل آفیسر عامر رشید اور ڈائریکٹر فنانس شاہد قریشی سے روابط کے شواہد بھی حاصل ہو چکے ہیں، ان پر پہلے سے بھی کیسز ہیں، یہ بہت بڑا منی لانڈرنگ کا نیٹ ورک تھا۔ انہوں نے کہا کہ مزید رقوم کی منتقلی کا انکشاف بھی متوقع ہے، ابھی تحقیقات کی صرف شروعات ہیں، جس میں ملک ریاض اور بحریہ ٹائون کے خلاف یہ شواہد اور ثبوت سامنے آئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف آئی اے نے تمام شواہد اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ایف آئی اے کی ٹیم نے چھاپہ مارا تو بحریہ ٹائون کے اہلکاروں نے ریکارڈ جلانے کی کوشش کی، کچھ ریکارڈ جل گیا، مگر اکثریتی ریکارڈ ایف آئی اے نے قبضے میں لے لیا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم جب پہنچی تو اس وقت ریکارڈ کو باقاعدہ آگ لگائی جا رہی تھی۔ ایف آئی اے نے جلنے سے بچا ہوا ریکارڈ ریکور کر لیا ہے۔ یہ عمل ملک ریاض، بحریہ ٹائون انتظامیہ اور ان کے پورے گروپ کے جرم کو ثابت کرتا ہے۔ وفاقی وزیر عطاء  اللہ تارڑ نے کہا کہ ایف آئی اے کی تحقیقات میں مزید پیشرفت ہو رہی ہے، آنے والے دنوں میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔  وقت کے ساتھ ساتھ مزید تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہنڈی حوالہ کا نیٹ ورک اور غیر قانونی کرپشن زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتی، عوام کا حق ہے کہ ان کے سامنے تمام حقائق رکھے جائیں اور اس پر بھرپور کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فرانزک آڈٹ کے بعد ان دستاویزات سے مزید شواہد سامنے آئیں گے۔  انہوں نے کہا کہ جو لوگ مفرور ہیں ان کی لوکیشنز بھی ایف آئی اے کو پہنچ رہی ہے۔ اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیں  کیونکہ جب جرم ثابت ہو چکا ہو تو بھاگنے سے فائدہ نہیں۔  ملک ریاض اور بحریہ ٹائون گروپ کرپشن، غیر قانونی سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ میں براہ راست ملوث ہیں۔ ان شاء  اللہ انصاف ضرور ہوگا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بحریہ ٹائون کے رہائشیوں کو کسی قسم کا خطرہ نہیں، ان کے حقوق محفوظ ہیں، یہ کارروائی صرف ملک ریاض، بحریہ ٹائون کے آفیشلز اور خاندان کے ان افراد کے خلاف ہے جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایم ڈی محمد عاصم کھچی نے اے پی پی فنڈز میں خوردبرد کا میگا سیکنڈل بے نقاب کیا ہے،  اس معاملے کو خود آگے بڑھائوں گا۔ وہ بدھ کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں سینیٹر سرمد علی کی جانب سے اٹھائے گئے سوال پر اظہار خیال کررہے تھے۔ سرمد علی نے اجلاس کے دوران سوال اٹھایا کہ  اے پی پی کے فنڈز میں خورد برد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ای آر سی اور پی ایف فنڈ میں 1.

23 ارب روپے کی خطیر رقم قومی خزانے سے خورد برد کی گئی۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹائون کے ایف ا ئی اے کی ایف ا ئی اے نے وزیر اطلاعات منی لانڈرنگ وفاقی وزیر ملک ریاض نیٹ ورک

پڑھیں:

اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔

گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔

سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔

شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔

دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔

اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔

زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔

ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔

اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کیوں ہوئی؟ وجہ سامنے آگئی
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا