لندن / واشنگٹن: سابق برطانوی وزیرِاعظم بورس جانسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو "بہادرانہ اور منطقی" اقدام قرار دیا ہے۔ 

انہوں نے بغیر بھارت کا نام لیے کہا کہ ایسے ممالک کو سزا ملنی چاہیے جو روسی تیل و گیس خرید کر پیوٹن کی جنگی مشین کو فنڈ فراہم کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے بدھ کو اعلان کیا کہ بھارت سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر مزید 25 فیصد ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے، جس سے مجموعی امریکی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام روس سے بھارت کی توانائی خریداری کے جواب میں کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ "بھارت اچھا تجارتی پارٹنر نہیں ہے" کیونکہ وہ روس سے تیل خرید کر یوکرین جنگ میں بالواسطہ مدد فراہم کر رہا ہے۔

بورس جانسن نے سوال اٹھایا: “برطانیہ اور یورپ کی یہ ہمت کب ہوگی؟” انہوں نے زور دیا کہ روس کی جنگی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے ایسے فیصلے ضروری ہیں۔

Donald Trump has done the brave, principled and logical thing - finally punishing the countries that have been funding Putin’s vicious war machine by buying Russian oil and gas.

When will Britain and the rest of Europe have the guts to do the same? https://t.co/ET2IZlN8Pn

— Boris Johnson (@BorisJohnson) August 6, 2025

دوسری جانب، بھارت نے امریکی اقدام کو افسوسناک اور غیرمنصفانہ قرار دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارت اپنے قومی مفاد میں وہی کچھ کر رہا ہے جو دیگر ممالک بھی کرتے ہیں، اور امریکہ کا یہ فیصلہ ناانصافی پر مبنی اور بلاجواز ہے۔

بھارت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم