جشن آزادی سے متعلق کراچی نیشنل اسٹیڈیم میں 13 اگست کو بڑا گرینڈ شو ہوگا، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیرنے عوام سے اپیل کی کہ سکھر، کراچی اور دیگر شہروں میں ہونے والے ان گرینڈ شوز میں بھرپور شرکت کریں، کیونکہ زندہ قومیں اپنے قومی تہوار شاندار انداز میں مناتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج کی طرف سے دی جانے والی تاریخی شکست کو پوری قوم شاندار انداز میں منائے، کیونکہ ماضی کی جنگوں کا مشاہدہ صرف پرانی نسلوں نے کیا تھا، جبکہ موجودہ نوجوان نسل نے پہلی بار اپنی فضائیہ، بری فوج، بحریہ اور پوری قوم کو ایک ساتھ دشمن کو عبرتناک شکست دیتے دیکھا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سینیئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت سندھ بھر میں ضلعی سطح پر خصوصی تقریبات جاری ہیں، جن میں کھیلوں کے مقابلے، خواتین کی واکس، میوزیکل شوز، آتش بازی اور دیگر رنگا رنگ پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزارِ قائد پر وزیراعلیٰ سندھ، کابینہ اراکین اور خصوصی بچوں کے ساتھ یومِ آزادی کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جبکہ 11 اگست کو اقلیتوں کے لیے خصوصی دن کے طور پر آزادی کے پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حیدرآباد میں حکومت سندھ اور عارف حبیب کے تعاون سے شاندار میوزیکل ایوننگ آج ہونے جا رہا ہے، 10 اگست کو سکھر میں رنگا رنگ میوزک پروگرام ہوگا، جبکہ 13 اگست کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان کا سب سے بڑا گرینڈ شو منعقد ہوگا، جس میں ملک کے معروف فنکار اور سیلیبرٹیز شریک ہوں گے، اس کے علاوہ سی ویو پر ڈونکی ریس اور بوٹس کی ریس جیسے منفرد ایونٹس بھی ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے بزنس کمیونٹی، اپوزیشن رہنماؤں، تمام پارلیمانی لیڈرز، مذہبی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں افراد کو ان تقریبات میں شامل ہونے کی دعوت دی، تاکہ یہ جشن کسی ایک گروہ کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ جشن بنے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سکھر، کراچی اور دیگر شہروں میں ہونے والے ان گرینڈ شوز میں بھرپور شرکت کریں، کیونکہ زندہ قومیں اپنے قومی تہوار شاندار انداز میں مناتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں