وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم اکرام اللہ نے اتوار کو وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے اکرام اللہ کو خوش آمدید کہا اور یاد دلایا کہ وہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد قلعہ سیف اللہ کے دورے کے دوران خسنوب کے امدادی خیمے میں اس سے ملے تھے، جب اس کا خاندان شدید متاثر ہوا تھا۔ اس موقع پر اکرام اللہ نے اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہ ہونے پر افسوس اور تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان یونیورسٹی: مادری زبانوں کے شعبے ضم کرنے کا فیصلہ، اساتذہ، طلبہ اور سیاسی حلقوں میں شدید اضطراب

وزیراعظم نے کہا کہ آج اکرام اللہ کو ایک پراعتماد، پُرجوش اور سلجھے ہوئے طالب علم کے طور پر دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ انہوں نے ذاتی حیثیت میں اکرام اللہ کو قلم اور نصابی سرگرمیوں میں مدد کے لیے ایک ٹیبلیٹ کا تحفہ پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اس کی تعلیمی journey میں مددگار ثابت ہوگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ بطور خادم اعلیٰ پنجاب، انہوں نے ہونہار طلبہ کو میرٹ پر بیرون ملک بھیجنے کے لیے اسکالرشپ اسکیم شروع کی تھی اور اب وفاقی سطح پر بھی اسی طرز پر اسکالرشپ پروگرام لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان ٹیبلیٹ ضلع قلعہ سیف اللہ طالب علم اکرام اللہ وزیراعظم محمد شہباز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان ٹیبلیٹ ضلع قلعہ سیف اللہ طالب علم اکرام اللہ وزیراعظم محمد شہباز شریف شہباز شریف اکرام اللہ طالب علم کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ