ایٹمی بلیک میلنگ کا بھارتی بیانیہ گمراہ کن‘ خود ساختہ ہے : پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اسلام آ باد (نوائے وقت رپورٹ+خبر نگار خصوصی) وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے آرمی چیف کے بیان سے متعلق دیے گئے ریمارکس کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی وزارت خارجہ کے غیر سنجیدہ اور گمراہ کن بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اپنے بیان میں ترجمان نے کہا ہے کہ بھارتی بیان غیر سنجیدہ اور حقائق کو مسخ کرنے کی بھارتی عادت کا ایک اور مظاہرہ ہے۔ مبینہ "ایٹمی بلیک میلنگ" کا بھارتی بیانیہ گمراہ کن اور خود ساختہ ہے۔ پاکستان کسی بھی طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کے سخت خلاف ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے، جس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مکمل سول انتظام کے تحت ہے۔ پاکستان ہمیشہ ضبط و احتیاط سے کام لیتا آیا ہے اور ایسے حساس معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مسلسل اور مؤثر کوششیں دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے الزامات بے بنیاد اور بغیر کسی ثبوت کے ہیں۔ پاکستان کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی کسی بھی بھارتی کوشش کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری بھارتی قیادت پر عائد ہوگی۔ نہتے فلسطینیوں پر حملوں کی مذمت کرتے ترجمان نے کہا فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی عمومی تشریح سے متعلق ثالثی عدالت کی جانب سے 8 اگست 2025ء کو سنائے گئے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جسے عدالت کی ویب سائٹ پر شائع کر دیا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ مغربی دریائوں (چناب، جہلم اور سندھ) پر بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے نئے ''رن آف ریور'' ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے مقرر کردہ اصولوں کی وضاحت کرتا ہے۔ ایک اہم نکتے میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ بھارت کو مغربی دریائوں کے پانی کو پاکستان کے بلاروک ٹوک استعمال کے لیے ''بہنے دینا'' ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی جانب سے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔