باجوڑ میں قبائلی عمائدین اور دہشت گردوں کا جرگہ ناکام
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
سرکاری ذرائع کے مطابق باجوڑ میں فتنۃ الخوارج اور قبائل عمائدین کے درمیان مصالحت کے لیے بلایا گیا جرگہ ناکام ہو گیا جب کہ علاقے میں مکمل کرفیو بھی نافذ ہے اور تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ باجوڑ میں قبائلی عمائدین اور فتنۃ الخوارج کا جرگہ ناکام ہوگیا، جب کہ قیام امن کے لیے فوجی آپریشن جاری ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق باجوڑ میں فتنۃ الخوارج اور قبائل عمائدین کے درمیان مصالحت کے لیے بلایا گیا جرگہ ناکام ہو گیا جب کہ علاقے میں مکمل کرفیو بھی نافذ ہے اور تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔ ذرائع کے مطابق باجوڑ میں فوجی آپریشن جاری ہے اور گن شپ ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے لوئر دیر میں پاک افغان بارڈر سے منسلک قبائل نے علاقے میں موجود خارجی دہشت گردوں کے خلاف اسلحہ اٹھانے، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو علاقہ بدر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لوئر دیر میں پاک افغان بارڈر سے منسلک مسکینی درہ کے قبائل نے علاقے میں دہشت گردوں کو اپنے علاقوں میں نہ چھوڑنے فیصلہ کیا ہے۔
قبائلی جرگے نے اعلان کیا ہے کہ اگر دہشت گردوں نے کوئی تخریب کاری کرنے کوشش کی تو ان کی جائیدادوں کو ضبط کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاندانوں کو علاقہ بدر کیا جائے گا۔ جرگے نے دہشتگردوں کے خلاف اسلحہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور دہشت گردوں کی نقل حرکت روکنے کے لیے رات کو پہرہ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ قبل ازیں سیکورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ خوارج باجوڑ میں آبادی کے درمیان رہ کر دہشتگردانہ اور مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، خیبر پختونخوا کی حکومت بشمول وزیر اعلیٰ اور سکیورٹی حکام نے وہاں کے قبائل کے سامنے 3 نکات رکھے تھے، جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان خارجیوں کو جن کی زیادہ تعداد افغانوں پر مشتمل ہے، کو باہر نکالیں۔
اگر قبائل خوارجین خود نہیں نکال سکتے تو ایک یا دو دن کے لیے علاقہ خالی کر دیں تاکہ سکیورٹی فورسز ان خوارجین کو اُن کے انجام تک پہنچا سکیں۔ اگر یہ دونوں کام نہیں کیے جا سکتے تو حتی الامکان حد تک Collateral Damage سے بچیں کیونکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہر صورت جاری رہے گی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ حکومتی سطح پر کوئی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک کے وہ ریاست کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم نہ کر دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جرگہ ناکام علاقے میں باجوڑ میں گردوں کے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔