صوبائی وزیرِ توانائی سید ناصر حسین شاہ نے اعلان کیا کہ بجلی ہم خود بنائیں گے اور ایس ٹی ڈی سی کے تحت خود ترسیل کریں گے، بجلی کے نرخ بھی اب ہم خود طے کر سکیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے شہریوں کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے سندھ کے صوبائی وزیرِ توانائی سید ناصر حسین شاہ نے بڑا اعلان کر دیا۔ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے اعلان کیا کہ کراچی کی صنعت اور رہائشیوں کو سیپرا کے تحت سستی بجلی فراہم کی جائے گی، سستی بجلی کے نرخ کے الیکٹرک کی نسبت بہت کم ہوں گے۔ وزیرِ توانائی سندھ نے کہا کہ بجلی ہم خود بنائیں گے اور ایس ٹی ڈی سی کے تحت خود ترسیل کریں گے، بجلی کے نرخ بھی اب ہم خود طے کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس ٹی ڈی سی کی ترسیل شدہ بجلی کا نیپرا کے نرخوں سے تعلق نہیں ہوگا اور ایس ٹی ڈی سی سے ترسیل کی گئی بجلی کا نرخ نیپرا سے بہت کم ہوگا، سیپرا میں لوگوں کو بھرتی کر لیا گیا ہے اور رواں ماہ اگست ہی نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہماری بنیادی توجہ کا مرکز اکنامک زونز ہیں، ہماری کوشش ہے کہ سیپرا کے تحت بجلی کی پہلی ترسیل کے فور کے گرڈ کو فراہم کی جائے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم نے سندھ اسمبلی سے سیپرا کو آئینی طور پر منظور کروا لیا ہے، اب کراچی کے شہری بھی سستی بجلی حاصل کر سکیں گے، تاہم ترسیلی نظام ایس ٹی ڈی سی کے پاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے بورڈ میں سندھ کی نمائندگی نہیں ہے، وفاق کے 3 ڈائریکٹر ہیں، وفاق سے کہا ہے کہ 1 نمائندہ وفاق کا ہو اور باقی 2 سندھ سے ہوں۔ وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کا کے الیکٹرک کو سولر پارکس کے ذریعے سستی بجلی فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا ہے، کے الیکٹرک سے کہا ہے کہ سولر سے جب بجلی بن رہی ہے تو مہنگے ایندھن والی بجلی نہ خریدیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ناصر حسین شاہ نے ایس ٹی ڈی سی کے الیکٹرک سستی بجلی نے کہا کہ کے تحت کے نرخ

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا