جشن یوم آزادی، ہوائی فائرنگ سے کمسن بچی سمیت 3 افراد جاں بحق، 114 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
ترجمان کراچی پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ رات شہر میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ کے واقعات میں 67 افراد زخمی ہوئے اور 3 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی شہر میں یوم جشن آزادی کے موقع پر 13 اگست کی شب رات بارہ بجتے ہی شہر میں اسلحے کے بے دریغ استعمال اور اس کے نتیجے میں 114 شہریوں کے زخمی اور بچی اور بزرگ شہری سمیت 3 افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق یوم جشن آزادی کے موقع پر شہر میں کی گئی ہوائی فائرنگ سے زخمی ہونے والے سب سے زیادہ 43 افراد کو عباسی شہید اسپتال لایا گیا، عزیز آباد سے ایک کمسن بچی جاں بحق ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ جناح اسپتال میں مجموعی طور پر 41 زخمیوں کو لایا گیا، کورنگی میں شہری اسٹیفن فائرنگ سے جاں بحق ہوا، سول اسپتال میں مجموعی طور پر 30 زخمیوں کو لایا گیا، کلری کے علاقے آگرہ تاج میں بھی نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے 70 سالہ شہری جمعہ جاں بحق ہوئے۔ ترجمان کراچی پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ رات شہر میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ کے واقعات میں 67 افراد زخمی ہوئے اور 3 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ہوائی فائرنگ کے الزام میں 86 شرپسند عناصر کو گرفتار کرلیا، 68 غیر قانونی اسلحہ برآمد کر کے مجموعی طور پر 111 مقدمات درج کیے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ معصوم شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے پر قتل اور اقدام قتل کے مزید مقدمات بھی درج کیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہوائی فائرنگ
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔