گورنر سندھ کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ٹیلیفونک رابطہ، تعاون کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔
ترجمان گورنر سندھ کے مطابق کامران ٹیسوری نے علی امین گنڈاپور کو موجودہ صورتحال میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہائی کرائی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے امدادی کارروائیوں کےلیے جانے والا ہیلی کاپٹر کریش ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
گورنر سندھ نے خیبر پختونخوا میں ہیلی کاپٹر حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جاں بحق اہلکار عوام کی خدمت کے مشن پر تھے۔
کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اس مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
گورنر سندھ نے وزیراعظم آزاد کشمیر سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، اس دوران حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ترجمان گورنر سندھ کے مطابق دوران گفتگو کامران ٹیسوری نے متاثرین کےلیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کامران ٹیسوری خیبر پختونخوا گورنر سندھ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔