وزیراعظم شہباز شریف کو چیئرمین این ڈی ایم اے کی بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
—تصویر: آن لائن
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی ریسکیو و ریلیف آپریشن میں ہر قسم کی معاونت کریں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کی صورتِ حال کے جائزے کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیرِ اعظم کو نقصانات اور ریسکیو و ریلیف آپریشن پر بریفنگ دی۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک کے بالائی حصوں میں کلاؤڈ برسٹ، فلیش فلڈز سے ہونے والے نقصانات پر بھی بریفنگ دی۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو خیبر پختونخوا حکومت اور پی ڈی ایم اے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے، ریسکیو و ریلیف آپریشن میں تعاون فراہم کرنے، تمام وسائل بروئے کار لانے، خیبر پختونخوا حکومت سے امدادی سرگرمیوں کے لیے رابطے مربوط کرنے کی ہدایت کی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ضلع بونیر میں ہوا۔ بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام آفت زدہ اضلاع قرار دے دیے گئے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ این ڈی ایم اے صوبائی حکومت کی ریسکیو و ریلیف آپریشن میں ہر قسم کی معاونت کرے، خیبر پختونخوا حکومت کو خیمے، ادویات، اشیائے خور و نوش اور دیگر امدادی سامان فوری پہنچایا جائے، ترجیحی بنیادوں پر امدادی سامان کو ٹرکوں کے ذریعے فوری بھیجا جائے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں و سیاحوں کو فوری محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ریسکیو و ریلیف ا پریشن چیئرمین این ڈی ایم اے خیبر پختونخوا حکومت اعظم شہباز شریف ہدایت کی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔