سینٹرل کنٹریکٹس 2025-26: پرفارمنس پر فیصلہ، کئی کرکٹرز فارغ، نئے ناموں کی انٹری متوقع
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
سینٹرل کنٹریکٹس 2025-26: پرفارمنس پر فیصلہ، کئی کرکٹرز فارغ، نئے ناموں کی انٹری متوقع WhatsAppFacebookTwitter 0 16 August, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس 2025-26 پرفارمنس کی بنیاد پر کئی کھلاڑیوں کی چھٹی یقینی ہوگئی، کئی نئے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹس ملنے کا امکان ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئندہ سیزن کے لیے سینٹرل کنٹریکٹس 2025-26 پر مشاورت کا عمل حتمی مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جس کے دوران کھلاڑیوں کی پرفارمنس کو بنیادی معیار قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ناقص کارکردگی دکھانے والے متعدد کھلاڑیوں کے معاہدے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ کئی نئے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو پہلی بار سینٹرل کنٹریکٹ دینے کی تجویز زیر غور ہے۔پی سی بی کے کوچز، ڈائریکٹرز اور فنانس ڈپارٹمنٹ اس حوالے سے تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں۔ تینوں فارمیٹس میں مستقل جگہ نہ بنانے والے کھلاڑیوں کو آئندہ کنٹریکٹس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حسن نواز، محمد حارث، صفیان مقیم، حسن علی، فہیم اشرف اور فخر زمان سمیت کئی کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹس میں شامل کیے جانے کا امکان ہے جبکہ حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد نواز اور صاحبزادہ فرحان کے نام بھی زیر غور ہیں۔دوسری جانب عامر جمال، محمد حریرہ، حسیب اللہ، عثمان خان اور محمد علی کے لیے جگہ بنانا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ سینٹرل کنٹریکٹ کے تین سالہ فنانشل ماڈل کا آخری سال ہوگا اور کھلاڑیوں کی حتمی فہرست چیئرمین پی سی بی کی منظوری کے بعد باضابطہ طور پر جاری کی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوچستان بھر میں امن و امان کے پیش نظر مزید 15 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ بلوچستان بھر میں امن و امان کے پیش نظر مزید 15 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ پنجاب کے وسائل کے پی حکومت، عوام کی مدد کیلئے تیار ہیں: مریم کا علی امین کو فون چیئر مین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس،ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ خدا نے مجھے محافظ بنایا ہے، شہادت میری سب سے بڑی خواہش ہے،فیلڈ مارشل عمران خان کے وکیل نے 9 مئی مقدمات میں ضمانت کیلئے اضافی دستاویزات عدالت میں جمع کرادیں مالاکنڈ میں فائرنگ سے رہنما جے یو آئی مفتی کفایت اللہ اور اہلیہ زخمی، بیٹا، بیٹی جاں بحقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سینٹرل کنٹریکٹس 2025 26
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔