تعمیراتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے سیمنٹ کی طلب اور قیمت میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
تعمیراتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے سیمنٹ کی طلب اور قیمت میں کمی WhatsAppFacebookTwitter 0 16 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )ملک میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث تعمیراتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے سیمنٹ کی طلب میں کمی واقع ہوگئی ہے اور اس کے نتیجے میں سیمنٹ سستا ہوگیا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں سیمنٹ کی بوری 36 روپے سستی ہوگئی ہے اور ملک میں سیمنٹ کی بوری کی اوسط قیمت 1412 روپے ریکارڈ کی گئی، ایک سال پہلے 50 کلو سیمنٹ کی بوری کی اوسط قیمت 1448 روپے تھی۔
ایف بی ایس کا کہنا ہے کہ بعض شہروں میں سیمنٹ کی بوری 1510 روپے تک بھی فروخت ہورہی ہے تاہم اسلام آباد میں سیمنٹ کی فی بوری 1367 اور راولپنڈی میں 1372 روپے کی ہے۔رپورٹ کے مطابق گوجوانوالہ میں سیمنٹ کی فی بوری قیمت 1440، سیالکوٹ 1430، لاہور 1443، فیصل آباد میں 1370، سرگودھا 1400، ملتان 1409، بہاولپور1440 اور کراچی میں 1367 روپے ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ حیدرآباد میں سیمنٹ کی فی بوری کا ریٹ 1427، سکھر 1465، لاڑکانہ 1407، پشاور میں 1350، بنوں میں 1340، کوئٹہ 1510 اور خضدار میں 1483 رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسلم لیگ (ن) نے این اے-66 وزیرآباد کیلئے عطا تارڑ کے بھائی کو ٹکٹ جاری کردیا مسلم لیگ (ن) نے این اے-66 وزیرآباد کیلئے عطا تارڑ کے بھائی کو ٹکٹ جاری کردیا چینی درآمد کرنے کیلئے کم بولی کی پیشکش مسترد، مہنگی پیش کش قبول کرلی گئی نیتن یاہو دنیا کے لیے ایک “مسئلہ” بن چکے ہیں، ڈنمارک کا پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ ٹرمپ پیوٹن اور یوکرینی صدر کو ایک میز پر بٹھانے کے لیے سرگرم سینٹرل کنٹریکٹس 2025-26: پرفارمنس پر فیصلہ، کئی کرکٹرز فارغ، نئے ناموں کی انٹری متوقع بلوچستان بھر میں امن و امان کے پیش نظر مزید 15 روز کیلئے دفعہ 144 نافذCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سیمنٹ کی
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔