ہمارا اسلحہ حماس کا اسلحہ ہے، انصار الله
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں محمد البخیتی کا کہنا تھا کہ نیک اور بد میں فرق کیلئے آپریشن طوفان الاقصیٰ کافی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کی مقاومتی تحریک "انصار الله" کے سینئر رکن اور پولیٹیکل بیورو "محمد البخیتی" نے واضح کیا کہ یمن کا اسلحہ حماس کا اسلحہ ہے اسی طرح صنعاء، حماس ہی کی فرنٹ لائن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے لاکھوں مجاہدین حماس کے سپاہی ہیں اور اس تحریک کی جنگ و صلح، یمن کی جنگ اور صلح ہے۔ انصار الله کے اس سینئر رکن نے واضح کیا کہ یہ وہی شام و یمن کا اتحاد ہے جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیر کی دعا فرمائی تھی۔ یہ اتحاد، اُس نجدی گروہ (حجاز) کے مقابلے میں عمل میں آیا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دور رہنے کی تلقین فرمائی تھی اور اسے شیطان کا سینگ، زلزلوں و فتنوں کی جڑ قرار دیا تھا۔ محمد البخیتی نے کہا کہ اس امت کا جو بھی فرد ہدایت پائے گا وہ اس مبارک اتحاد کی وجہ سے ہو گا اور جو گمراہ و منحرف ہو گا وہ شیطان کے سینگ کے مذکورہ گروہ کی وجہ سے ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نیک اور بد میں فرق کے لئے آپریشن طوفان الاقصیٰ کافی ہے۔ دوسری جانب حماس اور صہیونی رژیم کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے کے تحت بالواسطہ مذاکرات کچھ دیر پہلے مصر کے شرم الشیخ میں شروع ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔