صدی کی دریافت نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ زمین اپنی تہوں میں کبھی خاموش نہیں رہتی۔ وہ ہمیشہ ایسے راز سنبھالے رکھتی ہے جو ایک نہ ایک دن انسان کی آنکھوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔
یوروگوئے کے دارالحکومت مونٹیویڈیو میں بھی یہی ہوا۔ محض ایک معمولی تعمیراتی منصوبہ، یعنی میوزیو ہسٹوریکو کابیلدو میں لفٹ لگانے کا کام، اچانک اس قدر بڑی دریافت کا سبب بن جائے گا، یہ کسی نے سوچا نہ تھا۔ لیکن مزدوروں کے اوزار زمین کی ان گہری تہوں کو چھو گئے جہاں صدیوں پرانی تہذیب اپنی خاموش گواہیاں سنبھالے بیٹھی تھی۔
یہ دریافت محض نوآبادیاتی اینٹوں یا چند ٹوٹی پھوٹی اشیاء کا انبار نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی تاریخ ہے جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انسانی زندگی پانی کے گرد کس طرح گھومتی رہی ہے۔ آثارقدیمہ کی ماہر نیکول دے لیون اور ان کی ٹیم نے جو ڈھانچے اور نوادرات برآمد کیے، ان سے یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ نوآبادیاتی دور سے لے کر یوروگوئے کی آزادی کے ابتدائی برسوں تک پانی ہی اصل محور تھا۔ مونٹیویڈیو چوںکہ قلعہ بند شہر تھا، اس لیے جب کبھی دشمن کا حملہ ہوتا یا محاصرہ کیا جاتا تو شہر کا بیرونی دنیا سے رشتہ منقطع ہوجاتا۔ ایسے وقتوں میں بقا کا دارومدار صرف داخلی آبی ذخائر پر ہوتا تھا۔
یہاں دریافت ہونے والا قدیم آبی ماخذ، جسے ’’فاؤنٹین آف لائف‘‘ کہا گیا، اپنی نوعیت کا منفرد سرمایہ ہے۔ یوروگوئے کی نائب وزیرِتعلیم و ثقافت انا ریبیرو کے مطابق، اُس وقت ہر چشمہ اور ہر کنواں ایک حکمتِ عملی کی لکیر تھا۔ وہ محض سہولت نہیں بلکہ شہری دفاع کا ستون تھے، جس شہر کے پاس پانی تھا، وہ زندہ رہتا، اور جس شہر سے پانی چھن جاتا، وہ شکست کھا جاتا۔
دل چسپ امر یہ ہے کہ مونٹیویڈیو کے مختلف چشموں کے بارے میں مقامی لوگوں کے الگ الگ عقائد تھے۔ مغربی چشمے زیادہ صاف اور میٹھے پانی کے سبب اعلیٰ سمجھے جاتے تھے۔
انہی سے متعلق ایسی داستانیں جنم لیتی تھیں کہ کچھ پانی معجزاتی تاثیر رکھتا ہے۔ لوئیس ماسکاریناس، جو ابتدائی آبادکاروں میں شامل تھے، کا چشمہ اس حوالے سے سب سے زیادہ شہرت یافتہ تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس کا پانی بیماریوں کو دور کرتا اور انسان کی توانائی بحال کرتا ہے۔ آج جب ماہرین اس نئی دریافت کو اُس مشہور چشمے کے ساتھ جوڑتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یہ وہی چشمہ ہے جس کی داستانیں صدیوں سے زبان زدِعام ہیں؟ اگر یہ درست نکلے تو یہ دریافت صرف آثارِقدیمہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی وراثت کی بازیافت ہوگی۔
لیکن یہ معاملہ صرف پانی کی فراہمی یا معجزاتی کہانیوں تک محدود نہیں رہتا۔ برآمد شدہ ڈھانچے ہمیں اُس وقت کے معاشرتی فرق، صفائی کے طریقوں، خوراک کے ذرائع اور طبقاتی امتیازات کی جھلک بھی دکھاتے ہیں۔ پانی کی تقسیم ہمیشہ طاقت کا کھیل رہا ہے۔ جس کے پاس پانی کا اختیار ہوتا، وہ سماج پر حکم رانی کرتا۔ آج بھی یہی حقیقت دنیا کے بیشتر خطوں میں نظر آتی ہے۔
اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو لاطینی امریکا کی نوآبادیاتی سیاست بھی پانی اور قدرتی وسائل کے گرد گھومتی رہی۔ یورپی نوآبادکار جب نئی دنیا میں آئے تو ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ پانی کے قریب بستیاں بسانا تھی۔ اسپین، پرتگال اور بعد ازاں برطانیہ و فرانس نے جب لاطینی امریکہ میں اپنے قدم جمائے تو وہ جانتے تھے کہ پانی کے بغیر ان کے قلعے اور تجارتی مراکز زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے۔
یہی وجہ ہے کہ ریو دے لا پلاٹا جیسے خطے میں پانی کے ذرائع کو سنبھالنے کے لیے شدید مسابقت رہی۔ مقامی باشندوں کی زمینیں ہتھیائی گئیں، چشمے اور دریا ان کے ہاتھ سے چھین لیے گئے، اور نوآبادیاتی قوتوں نے اپنی بالادستی کے لیے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
یوروگوئے کی حالیہ دریافت اسی نوآبادیاتی تناظر کو پھر سے زندہ کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پانی محض ایک قدرتی نعمت نہیں بلکہ ایک تاریخی وسیلۂ طاقت ہے، جس معاشرے نے اسے بہتر طور پر منظم کیا، وہ ترقی کرگیا۔ جس نے اسے ضائع کیا یا اس کی ناانصافی سے تقسیم کی، وہ زوال پذیر ہوا۔
اگر ہم ماضی سے حال کی طرف پلٹیں تو یہ دریافت ایک اور بڑی حقیقت کو بھی عیاں کرتی ہے۔ آج اکیسویں صدی میں جب ہم سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور جدید شہروں کے قصے سناتے ہیں، تب بھی صاف پانی تک رسائی ایک عالمی بحران ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق دنیا کی ایک بڑی آبادی اب بھی محفوظ پانی سے محروم ہے۔ افریقہ کے صحراؤں سے لے کر ایشیا کے شہروں تک، پانی کا مسئلہ بدستور انسانیت کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔
مونٹیویڈیو کا یہ چشمہ ہمیں بتاتا ہے کہ ماضی کے لوگ بھی انہی چیلینجوں سے دوچار تھے۔ وہ اپنے قلعے کے اندر پانی کے ذخائر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ اور آج کے انسان کے لیے بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت محاصرہ دشمن فوج کرتی تھی اور آج کا محاصرہ ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور غیرمساوی تقسیم نے کر رکھا ہے۔
یہ دریافت ایک اور نکتہ بھی اجاگر کرتی ہے کہ انسان ہمیشہ پانی کو محض حیاتیاتی ضرورت نہیں سمجھتا رہا۔ اُس نے اسے روحانی اور تہذیبی معنی بھی دیے۔ کسی چشمے کو معجزاتی کہا گیا، کسی کو تقدس بخشا گیا، اور کسی کو زندگی کا سرچشمہ قرار دیا گیا۔ آج کے دور میں بھی پانی کی یہی حیثیت برقرار ہے۔ ہم اسے محض ایک سائنسی کیمیکل H2O نہیں کہہ سکتے، یہ ایک تہذیبی علامت ہے، ایک بقا کا استعارہ ہے۔
اس دریافت کی روشنی میں ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ مستقبل کے شہروں کی منصوبہ بندی کس بنیاد پر کی جائے۔ کیا ہم پانی کے ماخذوں کو محفوظ بنا رہے ہیں؟ کیا ہم دریاؤں، جھیلوں اور زیرِزمین ذخائر کو بچا پا رہے ہیں؟ یا ہم بھی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا بحران چھوڑ رہے ہیں جس کا حل شاید اُن کے پاس بھی نہ ہو؟
مونٹیویڈیو کے زیرِزمین دفن یہ کنویں اور چشمے ہمیں خاموش زبان میں یہی سبق دیتے ہیں کہ تاریخ ہمیشہ مٹی میں چھپی رہتی ہے لیکن وقتاً فوقتاً ہمیں آئینہ دکھانے کے لیے سامنے آ جاتی ہے۔ یہ آئینہ محض ماضی کا نہیں بلکہ حال اور مستقبل کا بھی ہے۔
یوروگوئے کی اس دریافت نے ایک بار پھر انسان کو یاد دلایا ہے کہ زندگی کا اصل محور پانی ہے۔ تہذیبیں اسی کے گرد ابھرتی اور ڈوبتی ہیں۔ چاہے وہ نوآبادیاتی مونٹیویڈیو ہو یا آج کا جدید شہر، انسان کی کہانی ہمیشہ پانی کے ساتھ جڑی رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نوا بادیاتی یہ دریافت نہیں بلکہ پانی کے کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔