پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 5400 روپے کا بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پاکستان اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جس نے سونے کی فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 5400 روپے کا اضافہ ہوگیا، جس کے بعد سونا ملکی تاریخ میں پہلی بار 4 لاکھ 15 ہزار روپے کی ریکارڈ سطح سے بھی اوپر پہنچ گیا۔
ملک میں فی تولہ سونا 5400 روپے اضافے کے بعد 415278 روپے کا ہوگیا جب کہ 10 گرام سونا 4629 روپے اضافے کے بعد 356033 روپے کا ہو گیاہے۔
اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 326375 روپے ہوگئی۔
جبکہ عالمی بازار میں سونا 54 ڈالر اضافے کے بعد 3940 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈالر سونے کی قیمت سونے کی قیمت میں اضافہ فی تولہ سونا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈالر سونے کی قیمت سونے کی قیمت میں اضافہ فی تولہ سونا سونے کی قیمت میں فی تولہ روپے کا کے بعد
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔