اساتذہ معمار قوم، لیکن اپنے حقیقی مقام سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
قوموں کی تعمیر و ترقی میں جو کردار سب سے نمایاں ہے وہ استاد کا ہے۔ استاد وہ ہستی ہے جو کچے ذہن کو تراش کر گوہرِ نایاب بناتی ہے۔ استاد صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ وہ فکر و شعور کی راہیں کھولتا ہے، کردار سنوارتا ہے اور دلوں کو اخلاقی بلندی عطا کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ استاد قوم کا معمار ہے۔
اگر ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے بات کریں تو اسلام میں استاد کی بے حد اور عظمت ہے۔
اسلام نے استاد کو ایک مقدس مقام دیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے :
"میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔"یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ تدریس محض روزگار نہیں بلکہ انبیاء کی میراث ہے۔ قرآنِ مجید میں بھی تعلیم دینے والوں کے درجے بلند کرنے کا ذکر ہے:"اللّٰہ اْن کے درجات بلند کرتا ہے جو ایمان لائے اور جنہیں علم عطا کیا گیا۔"یعنی استاد وہ ذریعہ ہے جس کے وسیلے سے اللّٰہ بندوں کو عزت اور مرتبہ عطا فرماتا ہے۔
استاد کی زندگی محنت اور قربانی سے عبارت ہے۔ ہر استاد اپنی زندگی میں بے شمار قربانیاں دیتا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے بے شمار اساتذہ ملتے ہیں جنہوں نے اپنی خوشیاں قربان کرکے نسلوں کو کامیابی کی راہ دکھائی۔امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ نے ہزاروں شاگرد تیار کیے جنہوں نے دینِ اسلام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔امام بخاری رحمہ اللّٰہ نے اپنے استادوں سے حدیث کا علم لے کر ایسی عظیم کتاب مرتب کی جو صدیوں سے روشنی کا مینار ہے۔
مغربی دنیا میں سقراط اور افلاطون کی مثالیں ملتی ہیں کہ کیسے ایک استاد نے اپنے شاگرد کو عظیم فلسفی بنایا۔یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ایک اسکول کا عام استاد بھی مستقبل کے ڈاکٹروں، انجینئروں اور سائنسدانوں کی تربیت کرتا ہے۔استاد اور شاگرد کا تعلق دنیا کے پاکیزہ ترین رشتوں میں سے ہے۔ شاگرد استاد کے سامنے ادب و انکسار کے ساتھ بیٹھتا ہے، اس کے الفاظ کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتا ہے۔
ماضی میں شاگرد استاد کے سامنے زمین پر بیٹھ کر سبق سنتے اور استاد گرامی کے ایک اشارے پر اپنی زندگی بدل دیتے تھے۔حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ کا قول ہے:"جس نے مجھے ایک حرف سکھایا وہ میرا استاد ہے، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام۔"یہ قول شاگرد اور استاد کے رشتے کی روحانیت کو ظاہر کرتا ہے۔استاد دراصل ایک سماجی انجینئر ہے۔ وہ صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ شاگرد کے اخلاق، معاشرتی رویے اور شخصیت کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ استاد کی صحبت انسانیت سکھاتی ہے۔ ایک حقیقی استاد اپنے شاگرد کے دل میں یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ کامیابی دولت یا عہدے سے نہیں بلکہ کردار سے ہے۔
ہر سال پانچ اکتوبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا استاد کے کردار کو تسلیم کرتی ہے اور اْن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ مختلف تقریبات، سیمینارز، تقریری مقابلے اور تحریری سرگرمیاں اس دن کے ساتھ منسلک ہیں۔لیکن ہمیں سوچنا ہوگا کہ صرف ایک دن استاد کو یاد کرلینا کافی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ استاد کو عزت و وقار پورے سال ملنی چاہیے، کیونکہ قوم کی زندگی استاد کی بدولت سانس لیتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں استاد کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جو دیا جانا چاہیے۔ کم تنخواہیں، وسائل کی کمی، عزتِ نفس کی پامالی اور معاشرتی بے اعتنائی استاد کو دکھی کرتی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پیشہ سب سے زیادہ عزت کا مستحق ہے۔اگر پاکستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے تو ہمیں اپنے اساتذہ کی حالت کو بہتر بنانا ہوگا۔ ان کے لیے جدید تربیتی کورسز، مالی سہولتیں، اور معاشرتی عزت و احترام لازمی ہے۔
استاد کی مثال اس چراغ کی سی ہے جو خود جل کر اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔ وہ اپنی ذاتی خواہشات قربان کرتا ہے تاکہ شاگرد کامیاب ہو سکیں۔ امتحان کے دنوں میں استاد کی جاگتی راتیں شاگرد کے لیے کامیابی کا زینہ بنتی ہیں۔ شاگرد جب کامیاب ہو کر دنیا میں نام پیدا کرتا ہے تو استاد کی خوشی الفاظ سے بیان نہیں کی جا سکتی۔آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ایسے میں استاد کو اپنی ذمہ داری اور بڑھانی ہوگی۔ اب صرف نصاب پڑھا دینا کافی نہیں۔ استاد کو شاگرد کی شخصیت کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
اخلاقی تربیت، قومی شعور، ٹیکنالوجی کی سمجھ اور عالمی حالات کا ادراک یہ سب استاد کے فرائض میں شامل ہیں۔ہر شعبہ زندگی استاد کا محتاج ہے۔ ڈاکٹر ہو یا انجینئر، سیاستدان ہو یا فوجی جرنیل سب نے کسی نہ کسی استاد سے علم حاصل کیا ہے۔ اگر استاد نہ ہوتا تو نہ قوم بنتی، نہ معاشرہ پروان چڑھتا۔ اسی لیے کہا گیا ہے:"کلاس روم وہ جگہ ہے جہاں قوموں کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔"
یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کو عزت دیں، ان کے مقام کو تسلیم کریں اور ان کی خدمت کریں۔ استاد کی عزت کرنا اصل میں اپنے مستقبل کی حفاظت کرنا ہے۔ استاد کو زندگی کے ہر مرحلے پر عزت دینا چاہیے، چاہے وہ ہمارے بچپن کے استاد ہوں یا یونیورسٹی کے۔قدیم اسلامی معاشرے میں استاد کو روحانی والد کا درجہ حاصل تھا۔ شاگرد استاد کے جوتے سیدھے کرنے کو سعادت سمجھتا تھا۔ ہمارے بزرگوں کی تربیت میں یہ بات شامل تھی کہ استاد کے سامنے اونچی آواز نہ کی جائے۔ آج ہمیں اسی روایت کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
آج کے دور میں استاد کو سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ شاگرد کا دھیان موبائل، سوشل میڈیا اور مادیت پرستی کی طرف زیادہ ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو دشمن نہ سمجھے بلکہ اسے تعلیم کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔ آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل لرننگ اور ریسرچ کی دنیا میں استاد کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے۔یومِ اساتذہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے اساتذہ کی عزت کر رہے ہیں؟ کیا ہم ان کی قربانیوں کا حق ادا کر رہے ہیں؟ ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ استاد کی عزت ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہوگی۔
آئیں 5اکتوبر یوم اساتذہ کی مناسبت سے یہ دعا کریں اے اللّٰہ! ہمارے اساتذہ پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ ان کی قبروں کو منور کر، ان کی محنتوں کو قبول فرما اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کے احسانات کا شکر ادا کر سکیں۔ آمین۔استاد گرامی دراصل وہ ہستی ہے جو نسلوں کے خوابوں کو تعبیر دیتی ہے۔ وہ علم کا خزینہ اور کامیابی کا زینہ ہے۔ اگر ہم نے استاد کی عزت کر لی تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ترقی سے نہیں روک سکتی۔ عالمی یومِ اساتذہ ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ استاد کا احترام کرو، کیونکہ یہی احترام قوم کی نجات کا راستہ ہے۔
اساتذہ اور تدریس پر اقوال اور کہاوتیں
٭ ’’جو جانکاری رکھتے ہیں وہ کرتے ہیں، جو سمجھتے ہیں وہ سکھاتے ہیں،،(ارسطو)
٭ ’’ایک عظیم استاد کے ساتھ ایک بسر کرنا ہزار دن تک دل لگا کر مطالعہ کرنے سے بہتر ہے،،(جاپانی کہاوت)
٭ ’’ اگر تم یہ پڑھ سکتے ہو، تو اپنے استاد کا شکریہ ادا کرو،،(امریکی کہاوت)
٭ ’’بچے یہ یاد نہیں رکھتے کہ تم نے انہیں کیا پڑھایا تھا، یہ ضرور یاد رکھتے ہیں کہ تم خود کیا تھے،،(جم ہنسین)
٭ ’’ ایک اوسط درجے کا استاد بتاتا ہے، اچھا استاد وضاحت کردیتا ہے، بہترین استاد کرکے دکھاتا ہے اور عظیم استاد فکری تحریک کا باعث ہوتا ہے (ولیم آرتھر وارڈ)
٭ ’’ اچھی تدریس سوالات کے جواب دینے سے کہیں بڑھ کر سوال اٹھانے پر مبنی ہوتی ہے،،(جوزف ایلمبر)
٭ ’’ تدریس ایک مقدس پیشہ ہے جو افراد کی کردار سازی کرتا ہے، باصلاحیت بناتا ہے، اور مستقبل کی صورت گری کرتا ہے، اگر مجھے ایک اچھے اُستاد کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے تو میرے لئے اس سے بڑی عزت افزائی اور کوئی نہیں ہوگی،، (ڈاکٹر عبدالکلام )
٭ ’’اگر کسی ملک کو بدعنوانی سے پاک اور اعلی خطوط پر معیاری قوم بنانا ہے تو مجھے شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں تین شخصیات تبدیلی لاسکتی ہیں۔ وہ باپ، ماں اور استاد ہیں۔‘‘(ڈاکٹر عبد الکلام)
٭ ’’تخلیقی اظہار اور علم کی روشنی ذہنوں میں منور کرنا استاد کا اعلیٰ فن ہے‘‘۔(البرٹ آئن اسٹائن)
٭ ’’ٹیکنالوجی صرف ایک آلہ ہے۔ بچوں کو ایک ساتھ کام کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں استاد ہی سب کچھ ہے‘‘۔(بل گیٹس)
٭ ’’اگر آپ کامیاب ہوتے ہیں تو آپ کی کامیابی کا راز آپ کے اساتذہ میں ہی مضمر ہے‘‘۔(براک اوباما)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں استاد کو نے استاد کہ استاد استاد کا استاد کے استاد کی ہے کہ اس دیتا ہے کرتی ہے کرتا ہے میں یہ کی عزت
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔