ویتنام میں طوفان “کاجیکی” کی آمد: لاکھوں افراد کا انخلا، اسکول و ہوائی اڈے بند
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
ویتنام اس وقت قدرتی آفت کے شدید خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ سال 2025 کا سب سے طاقتور طوفان “کاجیکی” ملک کے ساحلی علاقوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حکام نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے نصف ملین سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
طوفان کی رفتار 166 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ پیر کی دوپہر تک مرکزی ساحلی علاقوں سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید بارشیں، خطرناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈز کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے مقامی آبادی کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔
حکومت نے تھان ہُوا اور کوآنگ بن صوبوں کے ہوائی اڈے بند کر دیے ہیں، جبکہ ویتنام ایئر لائنز اور وِیٹ جیٹ نے متعدد پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ تمام کشتیوں کو ساحل پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے تاکہ سمندری حادثات سے بچا جا سکے۔
یہ طوفان نہ صرف ویتنام بلکہ پورے جنوب مشرقی ایشیا کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔