کراچی میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی وائرل؛ 27 اگست کو کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں اس وقت کراچی میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی پوسٹ وائرل ہورہی ہے جس نے عوام میں بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔
وائرل پوسٹ کے مطابق بتایا گیا ہے کہ 27 اگست کو کراچی میں کم از کم چار سو ملی میٹر تک بارشیں متوقع ہیں اور بعض پوسٹ میں یہ تیزی سات سو ملی میٹر سے گیارہ سو ملی میٹر تک بھی بتائی گئی ہے۔
ملک کے بالائی علاقوں میں اس وقت حالیہ مون سون بارشوں کے باعث سیلابی کیفیت اور شدید تباہی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے کراچی میں شدید بارشوں کی ہونے والی پیشگوئی نے عوام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
لیکن فیکٹ چیک کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر متوقع بارشوں سے متعلق پھیلائی گئی یہ خبر جعلی ہے۔
اس خبر کی تردید میں ویدر اپ ڈیٹس پی کے نے ایک اور پیغام جاری کیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ:
’’ماضی کی طرح ایک بار پھر مختلف میسجنگ ایپس پر کراچی میں 700-800 ملی میٹر یا 1100 ملی میٹر بارشوں سے متعلق انتہائی بے وقوفانہ اور جعلی پیغام پھیلایا جارہا ہے۔
ہم یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ کراچی میں ایسی کسی شدید بارش کا امکان نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کوئی سسٹم کراچی کی طرف آ رہا ہے، کم از کم فی الحال۔
جیسا کہ ہم اپنی کئی پچھلی اپ ڈیٹس میں بتا چکے ہیں، سندھ بشمول کراچی میں بارش کا ایک سسٹم متوقع ہے لیکن اس وقت اس کا رخ اور شدت بالکل غیر تصدیق شدہ ہے۔ اس سسٹم پر تفصیلی اپ ڈیٹ 26 اگست کو جاری کی جائے گی۔ براہِ کرم اس طرح کے بے بنیاد اور جعلی پیغامات کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔‘‘
اس سے قبل بھی موسم کی پیشگوئی کرنے والے اداروں کی جانب سے بتایا جاچکا ہے کہ بارشوں کا ایک اور سسٹم ملک میں داخل ہوچکا ہے جو کہ 27 اگست کو کراچی پہنچے گا لیکن کراچی پہنچنے تک اس سسٹم کی شدت کیا ہوگی، فی الحال اس بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی گئی۔ اس لیے عوام اس طرح کے جعلی اور سنسنی پھیلانے والے پیغامات پر توجہ نہ دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کراچی میں ملی میٹر اگست کو
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔