خیبرپختونخوا میں تعلیمی سال کو فال سمسٹر اور اسپرنگ سمسٹر میں تقسیم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
پشاور:
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے تعلیمی نظام میں اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت سمر اور ونٹر زونز میں تعلیمی سال کو فال سمسٹر اور اسپرنگ سمسٹر میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ابتدائی طور پر اس سسٹم کا اطلاق نرسری سے آٹھویں جماعت تک کی کلاسز پر ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سمر زون میں تعلیمی سال کا آغاز یکم ستمبر سے ہوگا، سمر زون میں فال سمسٹر یکم ستمبر سے 31 دسمبر تک ہوگا اور اسپرنگ سمسٹر 16 جنوری سے 31 مئی تک ہوگا۔
اسی طرح ونٹر زون میں تعلیمی سال کا آغاز یکم مارچ سے ہوگا، ونٹر زون میں اسپرنگ سمسٹر یکم مارچ سے 30 جون تک ہوگا جبکہ فال سمسٹر یکم اگست سے 22 دسمبر تک ہوگا۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ ہر سمسٹر کے الگ الگ امتحانات ہوں گے اور حتمی نتائج کی تیاری میں دونوں سمسٹر کے امتحانات کو برابری کی بنیاد پر اہمیت دی جائے گی۔
نئے سسٹم کے تحت بچوں پر کتابوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے دونوں سمسٹرز میں درسی کتب کو بھی دو حصوں میں چھاپنے کی تجویز دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں سمر اور ونٹر زونز میں چھٹیوں کا شیڈول معمولی ردوبدل کے ساتھ بدستور وہی رہے گا، تاہم ان چھٹیوں کو دونوں زونز میں مؤثر داخلہ مہم، مفت کتابوں کی تقسیم اور ترسیل، اساتذہ کرام کی تربیت، طلبہ کے لیے سمر اور ونٹر کیمپس اور طلبہ کے لیے فنی تربیتی پروگرامز وغیرہ کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔
ونٹر اور سمر زونز کے لیے الگ الگ تعلیمی سال ان علاقوں کی موسمی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے اور مختلف زونز کے لیے الگ الگ تعلیمی سال مقرر کرنے سے طلبہ کو غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور فنی تربیت حاصل کرنے کے بھر پور مواقع میسر آئیں گے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ الگ الگ تعلیمی سال کے نفاذ سے سرکاری وسائل کے بہتر اور مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں تعلیمی سال فال سمسٹر الگ الگ تک ہوگا کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد:وفاقی حکومت نے صوبوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت عوام کو سستی اور معیاری گندم کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے، پاسکو کے گندم ذخائر فوری طور پر صوبوں کی ضروریات کے مطابق فراہم کیے جائیں گے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ صوبوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی،10 لاکھ ٹن گندم درآمد کر کے ملکی ضروریات پوری اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جائے گا۔