دیواستبداد جمہوری قبا میں…
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
پہلے تو ایک حقیقہ سنیے۔پشاور میں قیوم خان کے خلاف ایک جلسہ ہو رہا تھا۔تقریروں کے ساتھ نعرے بھی لگ رہے تھے۔کوئی بھی شخص کسی بھی وقت چلاتا۔ نعرہ تکبیرحاضرین کی طرف سے جواب آتا۔اللہ اکبر
انقلاب۔زندہ باد
پاکستان۔زندہ باد
جمہوریت۔زندہ باد
کسی کو اس وقت یاد آیا تو اس نے کہا۔ دیواستبداد۔جواب آیا زندہ باد۔اس وقت شاید قبولیت کا وقت تھا چنانچہ تب سے اب تک دیواستبداد زندہ باد ہی چلا آرہا ہے۔ علامہ نے تو یہ کہا تھا
دیواستبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
اور یہ دیواستبداد اور نیلم پری کا قضیہ بہت پرانا ہے کیونکہ یہ جو ’’دیواستبداد‘‘ ہے یہ بڑا مکار بڑا عیار ہے ہمیشہ آزادی کی نیلم پری کا لباس چراکر پائے کوب ہوتا ہے یعنی ناچتا ہے۔چنانچہ سعدی شیرازی نے بھی اسے جان پہچان لیا تھا کہ
بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من انداز’’قدس‘‘ رامی شناسم
ترجمہ۔تم چاہو ہر رنگ کا لباس پہن لو میں تمہارے قدوقامت سے تمہیں پہچان لیتا ہوں۔اس پر حافظ آف شیراز نے کہا
پری نہفتہ رخ و دیودرکرشمہ حسن
پسنوزعقل زحیرت کہ ایں چہ بولعجبی
ترجمہ۔پری منہ چھپائے بیٹھی ہے اور دیو اس کے لباس میں اپنے ’’حسن‘‘ کے کرشمے دکھاتا ہے۔ سارا سال ’’دیو‘‘ ہی پائے کوب رہتا ہے ۔قومی دن قومی جوش وخروش اور ساتھ خورد ونوش سے منائے جاتے ہیں بلکہ ’’خورد برد‘‘ سے کہیے،مذہبی تہوار بھی جو ش و خروش سے منائے جاتے ہیں کشمیر اور فلسطین کے دن یکجہتی سے منائے جاتے ہیں۔
سارے بدن کا خون پسینے میں ڈھل گیا
اتنے جلے کہ جسم ہمارا پگھل گیا
کہ یہ جسم جلنے اور پسینے میں ڈھلنے کے لیے ہی تو پیدا ہوتے ہیں ان کا اور مصرف کیا ہے ایک دیوانے نے کہا کہ
سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگا
پاوں بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے
یہ تو دیوانوں کا مسئلہ ہے فرزانے تو’’سر اور پر‘‘ بھی رکھتے ہیں ہوا میں اڑ کر کسی اور باغ میں کسی اور درخت پر بسیرا کرلیں گے ایک اور دیوانے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ
مجھ کو ’’بے رنگ‘‘نہ کردیں کہیں یہ رنگ اتنے
سبز موسم ہے ہوا سرخ فضا نیلی ہے
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ’’دیواستبداد‘‘ اس جمہوری قبا میں اسی طرح ناچتا رہے گا اور جمہوری تماش بین اس پر نوٹ نچھاور کرتے رہیں گے اور آزادی کی نیلم پری اسی طرح نہفتہ رخ رہے گی۔اور آخر میں ایک چھوٹی سی کہانی۔کہتے ہیں ایک کسان کھیت میں بیلوں کے پیچھے ٹخ ٹخ کرتا ہوا ہل چلا رہا تھا کہ راستے پر ایک گانا بجاتا جلوس گزرنے لگا۔
جلوس کے ایک شخص نے کسان سے کہا۔کسان نے بیل ٹھہرا کر پوچھا کیسا جشن؟تو اس شخص نے کہا آزادی کا جشن۔ انگریز ہمارا وطن چھوڑ کر جارہے ہیں۔کسان خوش ہو کر بولا یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے میں بھی چلتا ہوں لیکن دو چار قدم چلنے کے بعد اس نے پوچھا یہ بتاؤ انگریز پٹواری اور تھانیدار کو بھی ساتھ لے جارہے ہیں نا۔اس شخص نے کہا نہیں تو؟ صرف انگریز جا رہا ہے پٹواری اور تھانیدار تو رہیں گے۔کسان نے کہا جب پٹواری اور تھانیدار کو نہیں لے جارہے ہیں تو کیسی آزادی؟اور پلٹ کر ہل چلانے لگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستانی اوپنرعبداللہ فضل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر
پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے بیٹرعبداللہ فضل کمر کے نچلے حصے میں انجری کے باعث ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مطابق عبداللہ فضل کو 23 جولائی کو ٹرینیڈاڈ میں برائن لارا کرکٹ اکیڈمی گراؤنڈ میں ہونے والے ٹریننگ سیشن کے دوران کمر کے نچلے حصے میں شدید تکلیف محسوس ہوئی، جس کے بعد ان کا طبی معائنہ کرایا گیا۔
ایم آر آئی کے بعد انجری کی تصدیقایم آر آئی اسکین اور تفصیلی طبی معائنے کے بعد ٹیم کے میڈیکل پینل نے تصدیق کی کہ عبداللہ فضل کی انجری ایسی نوعیت کی ہے جس کے باعث انہیں مکمل بحالی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:3 سال بعد بیرون ملک ٹیسٹ: ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستان کرکٹ ٹیم کے امتحان کا 25 جولائی سے آغاز
میڈیکل پینل کی سفارش پر انہیں آرام اور ری ہیبلیٹیشن پروگرام اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، جس کے باعث وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچز اور اس کے بعد انگلینڈ کے خلاف شیڈول ٹیسٹ سیریز میں بھی ٹیم کی نمائندگی نہیں کر سکیں گے۔
متبادل کھلاڑی کا فیصلہ بعد میں ہوگاپاکستان ٹیم انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف باقی ماندہ ٹیسٹ میچوں کے لیے عبداللہ فضل کے متبادل کھلاڑی کے انتخاب کا فیصلہ ضرورت کے مطابق بعد میں کیا جائے گا۔
پاکستان کے لیے اہم نقصانعبداللہ فضل کی عدم دستیابی پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے لیے اہم نقصان تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ ٹاپ آرڈر میں ایک اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں:سابق کپتان سرفراز احمد کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ کوچ بنانے کا فیصلہ، حتمی اعلان جلد متوقع
ایسے وقت میں جب ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز مکمل کرنا ہے اور اس کے بعد انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کا سامنا بھی درپیش ہے، ان کی انجری سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینے کا باعث بن سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انگلینڈ اوپنرعبداللہ فضل باہر پاکستان کرکٹ ٹیم۔ دورہ سیریز شاہین قومی ٹیم میچ ویسٹ انڈیز