چیف جسٹس کو چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی کے خط کی سنوائی کر کے ریلیف دیں، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کو چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی کے خط کی سنوائی کر کے ریلیف دیں۔
پشاور میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ چیف جسٹس کو جب خط لکھا جاتا ہے تو وہ اسے پٹیشن بنا کر سنتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو سمیت سارے بے بنیاد کیسز بنائے گئے ہیں، سارے گواہان بے بنیاد اور بوگس ہیں جو دباؤ میں گواہی دے رہے ہیں۔
اسلام آبادبانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی.
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں دو اہم گواہان کے بیانات سامنے آگئے ہیں۔
پرائیویٹ اپریزر صہیب عباسی نے سابق وزیراعظم اور سابق خاتون اول کو عرب ملک کی شخصیت کی جانب سے تحفے میں ملنے والے بلغاری جیولری سیٹ کی قیمت کم لگانے کا اعتراف کرلیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔