سرکاری ملازم پر تشدد کیس: فرحان غنی پیش، دوران تفتیش رہا کرنے پر عدالت کا استفسار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
سرکاری ملازم پر تشدد کے کیس میں پیپلز پارٹی کے رہنما فرحان غنی کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے تفتیشی افسر سے وضاحت طلب کی کہ دوران تفتیش تھانے سے ملزم کو کس قانون کے تحت رہا کیا گیا، آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کیا جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بتایا جائے کہ کیا دوران تفتیش ملزم کو رہا کرنے کا اطلاق دہشت گردی کے کیس میں ہوتا ہے؟ ملزمان کو جس سیکشن کے تحت ضمانت پر رہا کیا گیا اور درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی مدعی کے وکیل وہ قانون عدالت میں پیش کریں۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ کیس کی شفاف تحقیقات کی گئی ہیں، سرکاری کام چل رہا تھا لیکن کوئی دہشت گردی نہیں ہوئی ہے، اس کیس میں انسداد دہشت گردی کا خصوصی قانون لاگو نہیں ہو گا، یہ اے ٹی سی کا کیس نہیں بنتا، ہم درخواست دے دیتے ہیں۔
کیس کی مزيد سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
فیروزوالہ (نامہ نگار) شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک میں ایک شخص وقاص احمد نے بیوٹی پارلر پر جا کر سابقہ بیوی مسرت بی بی اور جواں سال بیٹی ایمان فاطمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا جس سے مسرت بی بی جسم پر تیزاب پڑنے سے بری طرح جھلس گئی جبکہ ایمان فاطمہ معمولی زخمی ہوئی۔ دریں اثناء ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ملزم وقاص احمد نشہ کا عادی ہے۔ وقوعہ کے وقت وقاص احمد اپنی بیٹی ایمان فاطمہ کو ملنے کی خاطر سابقہ بیوی مسرت بی بی کے بیوٹی پارلر پر آیا جہاں مسرت بی بی نے بیٹی کو ملانے سے انکار کر دیا۔ ملزم شیخوپورہ کے قریب قصبہ بھکھی میں رہ رہا ہے جس کو گرفتار کرنے کی خاطر اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔