وادی تیراہ میں ایک کمپاؤنڈ میں دھماکا خیز مواد پھٹنے سے 24 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
سٹی42: خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں ایک کمپاؤنڈ میں دھماکا خیز مواد پھٹنے سے 24 افراد ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں 14 مبینہ دہشتگرد شامل ہیں، باقی مرنے والے ان دہشتگردوں کے ساتھ اور آس پاس موجود تھے۔
پولیس کے مطابق اس کمپاؤنڈ کو فتنہ الہندوستان کا کمانڈر امان گل اور مسعود خان بطور بم فیکٹری استعمال کر رہے تھے اور یہاں اسلحہ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ دھماکے سے قریب کی کئی رہائش گاہیں بھی تباہ ہو گئیں۔
گرین ٹاؤن ؛ سسرالیوں کا خاتون پر تشدد ؛بھوئیں اور سرکے بال مونڈ دیے
پولیس کا کہنا ہے کہ اس شورش زدہ علاقے میں دہشتگرد عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔