منشیات کی کٹائی اور ترسیل، وادی تیراہ میں نیٹ ورک کی بھاری سازشیں بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
وادی تیراہ میں منشیات کی کٹائی، ترسیل اور منظم نیٹ ورک کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔ ذرائع نے کہا کہ وادی تیراہ میں پولیٹیکل، ٹیرر کرائم نیکسس کے حوالے سے اہم ویڈیو منظرعام پر آگئی جب کہ ڈی جی آئی ایس پی آرنے چندروز قبل اسی پولیٹیکل، ٹیرر ،کرائم نیکسس کو شواہد کےساتھ بے نقاب کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وادی تیراہ میں منشیات کی کاشت و ترسیل جرائم پیشہ عناصراور سیاسی سرپرستی میں ہوتی ہے۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی میں منشیات کی فصل کی کٹائی کا عمل جاری ہے، ویڈیو میں واضح ہے کہ منشیات کی فصل کو کٹائی کے بعدگاڑیوں میں لاد کر مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ خیبر اورتیراہ میں تقریبا 12ہزار ایکڑ رقبہ پر منشیات کاشت کی جاتی ہے، منشیات کی اس کاشت سے 18سے 25 لاکھ فی ایکڑ منافع حاصل ہوتا ہے، منشیات سے ہونے والی کمائی کا ایک حصہ خوارج کے حصہ میں آتا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ، خیبر پختونخوامیں دہشتگردی اسی "پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسس کی وجہ سے ہے، پولیٹیکل ٹیررنیکسس کی وجہ سے وادی تیراہ میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی جاتی ہے۔ سیکیورٹی ادارے سیاسی اور جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی میں ہونے والے منشیات کے غیر قانونی دھندے کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔