سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ، نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگئی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی ٹیرف پالیسی سے عالمگیر سطح پر غیر یقینی اقتصادی صورتحال، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں کمی اور یو ایس ٹریژری کی سونا کے ذخائر محفوظ رکھنے کے اقدامات کے باعث عالمی سطح پر سونا محفوظ سرمایہ کاری کا اہم اور قیمتی دھات بن گیا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 51ڈالر کے اضافے سے 3ہزار 770ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی آج دوسرے دن بھی 24قیراط کا حامل فی تولہ سونے کی قیمت 5ہزار 100روپے کے اضافے سے 3لاکھ 98ہزار 800 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔
اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت 4ہزار 372روپے کے اضافے سے 3لاکھ 41ہزار 906روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔
فی تولہ چاندی کی قیمت 42روپے کے اضافے سے 4ہزار 637روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی 36روپے کے اضافے سے 3ہزار 975روپے کی سطح پر آگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد ممالک کے سینٹرل بینکوں کی جانب سے زرمبادلہ کے بجائے سونے کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی، ڈالر کمزور ہونے اور اگلے ماہ دیوالی کی وجہ سے بھارت میں سونے کی ڈیمانڈ دوگنی ہونے جیسے عوامل نے عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمت کو تاریخ کی بلندیوں پر پہنچادیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر سونے کی طلب اور قیمتوں میں وقفے وقفے سے اضافے کا تسلسل برقرار ہے جس کے اثرات مقامی صرافہ مارکیٹوں پر بھی ظاہر ہو رہے ہیں اور پاکستان میں بھی سونے اور چاندی کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی نئی بلند ترین سطح پر سونے کی قیمت کے اضافے سے تاریخ کی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔