ماسٹر چنگان کا بڑا اقدام: پاکستان کی پہلی رینج ایکسٹینڈڈ ہائبرڈ گاڑٰی ڈیپل SO5 متعارف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں ایک نیا سنگ میل عبور ہونے جارہا ہے۔ ماسٹر چنگان موٹرز لمیٹڈ (ایم سی ایم ایل) نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال نومبر میں ملک کی پہلی رینج ایکسٹینڈڈ ہائبرڈ ایس یو وی ڈیپل S05 متعارف کرا رہا ہے، جو ایک بار چارجنگ اور ایندھن کی مدد سے 1000 کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چنگان پاکستان نے الیکٹرک گاڑیاں دیپال ایل 07 اور ایس 07 لانچ کر دیں
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر دانیال ملک کے مطابق ڈیپل S05 کا آغاز پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف صارفین کے ذہنوں میں موجود رینج اینگزائٹی کو ختم کرے گا بلکہ ایک ایسی جدید ای وی پلیٹ فارم متعارف کرا رہا ہے جو مقامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ڈیپل S05 کو C-سیگمنٹ SUV کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کا ڈیزائن اور ٹیکنالوجی اسے اپنے طبقے کی دیگر گاڑیوں سے منفرد بناتے ہیں۔ یہ گاڑی مکمل طور پر الیکٹرک ڈرائیو پر چلتی ہے جبکہ اس میں موجود سیلف چارجنگ جنریٹر بیٹری کو بوقت ضرورت دوبارہ چارج کرتا ہے، جس سے لمبے سفر میں سہولت میسر آتی ہے۔
ڈیزائن اور خصوصیاتڈیپل S05 کو مشہور ڈیزائنر کلاوس زائسیورا نے تیار کیا ہے، جو ووکس ویگن گروپ کے سابق ہیڈ آف ڈیزائن رہ چکے ہیں۔ اسپیس کرافٹ سے متاثرہ فرنٹ ڈیزائن، چوڑا اسٹانس، فریم لیس ونڈوز اور ہِڈن ڈور ہینڈلز اس SUV کو منفرد بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس گاڑی کو عالمی شہرت یافتہ ڈیزائن ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم جی موٹرز کا صارفین کو بڑا ریلیف: ایم جی ایچ ایس ٹرافی کی قیمت برقرار
گاڑی اپنے طبقے میں سب سے طویل وہیل بیس اور سب سے چوڑی باڈی کے ساتھ آرہی ہے، جس سے مسافروں کو C-سیگمنٹ میں سب سے کشادہ کیبن فراہم ہوگا۔
عالمی کامیابی اور مقامی مارکیٹ میں اثرات
ڈیپل برانڈ عالمی سطح پر پہلے ہی کامیابی حاصل کرچکا ہے اور اب S05 پاکستان میں سب سے جدید SUV کے طور پر لانچ ہونے جارہی ہے۔ ماسٹر چنگان موٹرز نے محض 6 برس میں ملک کی تیسری بڑی آٹو کمپنی کا درجہ حاصل کر لیا ہے اور 65 ہزار سے زائد گاڑیاں پاکستانی سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔
گزشتہ برس کمپنی نے ڈیپل S07 SUV اور ڈیپل L07 سیڈان متعارف کرا کے نئی انرجی وہیکلز (NEVs) کے شعبے میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔
مارکیٹ کے مسائل اور نیا حلپاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی محدود اپنائی جانے کی ایک بڑی وجہ چارجنگ انفراسٹرکچر اور رینج کا مسئلہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا موٹرز پاکستان میں اپنی پہلی الیکٹرک گاڑی کب لانچ کرے گا؟
کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈیپل S05 ان خدشات کو دور کرے گی اور ڈرائیورز کو زیادہ اعتماد اور سہولت فراہم کرے گی۔ گاڑی کے روڈ ٹیسٹ پہلے ہی ملک بھر میں جاری ہیں اور صارفین میں اس کی پہلی جھلک دیکھنے کے بعد جوش و خروش بڑھ رہا ہے۔
مستقبل کی جھلککمپنی کا دعویٰ ہے کہ ڈیپل S05 کی آمد پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں ایک نیا باب کھولے گی، جہاں لمبے سفر کے لیے رینج کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی اور صارفین مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی سے لطف اندوز ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news الیکٹرک ہائبرڈ گاڑی ایس او 5 ایندھن پاکستان چارجنگ ماسٹر چنگان موٹرز لمیٹڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس او 5 ایندھن پاکستان چارجنگ ماسٹر چنگان پاکستان کی رہا ہے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔