سیاست چھوڑیں، ملک کے لیے کھیلیں، یونس خان کی ٹیم کو تنبیہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بیٹر یونس خان نے کھلاڑیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست کو کھیل سے الگ رکھیں اور صرف ملک و قوم کے لیے میدان میں اتریں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یونس خان نے کہا کہ پاکستان ٹیم میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے اور یہ کمزوری جیت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، میچز میں کامیابی صرف بہتر منصوبہ بندی اور کم سے کم تبدیلیوں سے ممکن ہے، جبکہ بار بار تبدیلیاں ٹیم کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔
انہوں نے کھلاڑیوں کو تنبیہ کی کہ اپنے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے کھیلیں، اگر شاہین شاہ آفریدی جیسا فاسٹ بولر بیٹنگ میں بھی بہترین کارکردگی دکھا سکتا ہے تو دوسرے کھلاڑیوں کو بھی اپنی صلاحیتیں بہتر بنانی چاہییں۔
ایشیا کپ کے حوالے سے یونس خان نے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان فائنل کھیلا گیا تو یہ شائقین کے لیے بڑا موقع ہوگا، بھارتی ٹیم کو کمزور اور پاکستان ٹیم کو ناقابلِ شکست سمجھنا درست نہیں، دونوں ہی ٹیمیں متوازن ہیں، بھارتی ٹیم کی اچھی کارکردگی کا راز کم سے کم تبدیلیاں اور ہر کھلاڑی کا اپنے کردار کو بخوبی نبھانا ہے۔
انہوں نے بھارتی کھلاڑیوں کی طرف سے ہاتھ نہ ملانے کے واقعے پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی تھا۔ “اگر وہ حکومت کے کہنے پر ہاتھ نہیں ملا رہے تو ہمیں جیت کے ذریعے اپنا جواب دینا چاہیے، جیت کر آگے ہاتھ بڑھائیں۔
یونس خان نے بابر اعظم اور محمد رضوان کو بہترین اور باصلاحیت بیٹرز قرار دیا۔ انہوں نے اپنے افغان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ کے تجربے کو خوشگوار یاد کرتے ہوئے کہا کہ افغان کھلاڑی ان کے سامنے پروان چڑھے اور وہاں انہیں عزت و پذیرائی ملی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یونس خان نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔