190ملین پاؤنڈ کیس:وکلاء کو عدالت پہنچنے میں دشواری، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نےمعذرت کرلی
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے دوران وکلاء سے عدالت پہنچنے میں سیکیورٹی کی وجہ سے دشواری پر معذرت کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت وکلاء اور صحافیوں نے شکوہ کیا کہ عدالت میں ملٹی لیئر سیکیورٹی کی وجہ سے عدالت تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ سب بڑے قابل احترام ہیں، میں معافی مانگتا ہوں، آپ لوگ جس وقت مرضی آئیں میرے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں، میں ویری ویری سوری کرتا ہوں۔ دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے بتایا کہ اس کیس میں نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر شدید بیمار ہیں۔ سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ کیس مشکل سے فکس ہوتا ہے اور مشکل سے ہمیں تاریخ ملتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب کو آخری موقع دیا جاتا ہے ورنہ ڈی جی نیب کو طلب کیا جائے گا۔ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ کیس میں آئندہ تاریخ بتا دی جائے، میرے کلائنٹس مجھے جانے نہیں دیتے۔ نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث سماعت بغیر کارروائی 16 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔