شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے 21 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن سیاسی استحکام اور خطے کی معاشی ترقی کیلئے ضروری ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی دن ہے، خطے میں امن اور استحکام کے لیے کام کریں گے۔ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ غزہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے بھی امن معاہدے کی حمایت کی ہے۔  ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں اپنی دو طرفہ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے مختلف امور پر بات چیت کی، جبکہ میڈیا کو آگاہ کیا کہ مذاکرات کے دوران خاص طور پر غزہ میں جنگ بندی اور قیامِ امن کی کوششوں پر توجہ مرکوز رہی۔ غزہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 21 نکات کی تفصیل سامنے آگئی۔ ان نکات میں معاہدہ ہونے کے بعد 48 گھنٹوں میں غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہوگی۔

حماس کے غیر مسلح ہونے اور غزہ کی انتظامیہ میں حماس کا کوئی کردار نہ ہونے، غزہ سے جبری انخلا نہ کروانے، اسرائیلی حملے روکنے، غزہ کے مقبوضہ علاقے چھوڑنے اور دوبارہ قبضہ نہ کرنے کا اسرائیلی وعدہ اور اسرائیل کی طرف سے قطر پر کوئی اور حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی تجاویز بھی مجوزہ نکات میں شامل ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے 21 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن سیاسی استحکام اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ خطے میں امن لانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مکمل طور پر تیار ہیں، وہ جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہيں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے منصوبے کا خیر مقدم کرتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف نے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو