وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے بھی غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے 21 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن سیاسی استحکام اور خطے کی معاشی ترقی کیلئے ضروری ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے تاریخی دن ہے، خطے میں امن اور استحکام کے لیے کام کریں گے۔ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ غزہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے بھی امن معاہدے کی حمایت کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں اپنی دو طرفہ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے مختلف امور پر بات چیت کی، جبکہ میڈیا کو آگاہ کیا کہ مذاکرات کے دوران خاص طور پر غزہ میں جنگ بندی اور قیامِ امن کی کوششوں پر توجہ مرکوز رہی۔ غزہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 21 نکات کی تفصیل سامنے آگئی۔ ان نکات میں معاہدہ ہونے کے بعد 48 گھنٹوں میں غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہوگی۔
حماس کے غیر مسلح ہونے اور غزہ کی انتظامیہ میں حماس کا کوئی کردار نہ ہونے، غزہ سے جبری انخلا نہ کروانے، اسرائیلی حملے روکنے، غزہ کے مقبوضہ علاقے چھوڑنے اور دوبارہ قبضہ نہ کرنے کا اسرائیلی وعدہ اور اسرائیل کی طرف سے قطر پر کوئی اور حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی تجاویز بھی مجوزہ نکات میں شامل ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے 21 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان دیرپا امن سیاسی استحکام اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ خطے میں امن لانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مکمل طور پر تیار ہیں، وہ جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہيں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے منصوبے کا خیر مقدم کرتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف نے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔