Jasarat News:
2025-11-29@14:32:30 GMT

دہلی میں بم دھمکیوں کا سلسلہ جاری،شہری خوف زدہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

دہلی میں بم دھمکیوں کا سلسلہ جاری،شہری خوف زدہ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی : گزشتہ روز دہلی کے کئی اداروں کو بم دھمکیوں پر مشتمل ای میلز موصول ہوئیں۔ ان میں اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈہ، نوئیڈا سی آر پی ایف پبلک اسکول اور قطب مینار کے قریب سروودیا ودیالیہ شامل ہیں۔ ای میلز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان مقامات پر دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا ہے۔ اس سے شہر میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیل گیا۔

اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آئیں۔ متاثرہ مقامات پر وسیع پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی گئی، تاہم سیکورٹی ایجنسیوں کو اب تک کی تحقیقات میں کوئی مشکوک چیز نہیں ملی ہے۔ یہ دھمکیاں بظاہر جعلی معلوم ہوتی ہیں۔یہ دہلی میں بم دھمکیوں کی کوئی نئی لہر نہیں ہے۔

پچھلے چند مہینوں میں اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور ہوائی اڈوں کو بار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر دھمکیاں جعلی ثابت ہوئی ہیں۔ اس سے عوام میں بے چینی کے ساتھ ساتھ حکام کے لیے بھی چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔دہلی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ سیکورٹی انتظامات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ای میلز کی صداقت اور ان کے پیچھے کے مقاصد کے بارے میں واضح تصویر سامنے آئے گی۔ پولیس اس معاملے کی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہے۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

زیرحراست شہری کو قتل کرنیوالے پولیس اہلکاروں کی سزائیں برقرار: اپیلیں خارج کر دی گئیں

---فائل فوٹو 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوکری سے برخاست کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران پولیس اہلکاروں کی سزائیں برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزاران کی اپیلیں خارج کر دیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے تین پولیس کانسٹیبلز کی اپیلوں پر فیصلہ جاری کر دیا۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔

تینوں افراد پر زریاب خان نامی شخص کو غیرقانونی حراست میں رکھنے، اسے قتل کرنے کا الزام تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پولیس اہلکاروں کو نوکری سے نکالنے کی محکمانہ کارروائیاں قانون کی حکمرانی، ریاستی اداروں پر اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 10 کسی شخص کی گرفتاری، حراست کے حوالے سے حفاظتی ضمانتیں فراہم کرتا ہے، کوئی بھی گرفتار شخص اس وقت تک حراست میں نہیں رکھا جاسکتا جب تک کہ اسے اس کی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ نہ کر دیا جائے، گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے مطابق انسان کی عزتِ نفس اور قانون کے تابع گھر کی پرائیویسی کی پامالی نہیں ہو سکتی۔

واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے نوکری سے برخاست کرنے کے محکمانہ کارروائی کے فیصلے کے خلاف پنجاب سروس ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔

پنجاب سروس ٹریبونل نے اِن کو نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

بعد ازاں نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست گزاران نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • ابوظہبی ٹی 10:رائل چیمپس نے کوئٹہ کیولری کی ناقابلِ شکست مہم کا سلسلہ توڑ دیا
  • آئین ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہےکہ وہ ہر شہری کےحقِ زندگی کا تحفظ کرے اور حراستی تشدد اور قتل کو روکے: سپریم کورٹ
  • زیرحراست شہری کو قتل کرنیوالے پولیس اہلکاروں کی سزائیں برقرار: اپیلیں خارج کر دی گئیں
  • ہائی کمیشن کی کوششوں سے بھارت میں قید 3 پاکستانی شہری رہا
  • وائٹ ہاؤس کے پاس، افغان شہری کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی سارہ بیکاسٹرم کون تھیں؟
  • کے پی میں رواں سال کارروائیوں میں 955 دہشت گرد ہلاک: رپورٹ جاری
  • پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کی موٹرسائیکل چوری کی نکلی
  • دسمبر میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کی پیشگوئی
  • شہری سے 80 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے والا اسی کا ڈرائیور نکلا
  • شہری سے 80 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنیوالا ذاتی ڈرائیور نکلا