دہلی میں بم دھمکیوں کا سلسلہ جاری،شہری خوف زدہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی : گزشتہ روز دہلی کے کئی اداروں کو بم دھمکیوں پر مشتمل ای میلز موصول ہوئیں۔ ان میں اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈہ، نوئیڈا سی آر پی ایف پبلک اسکول اور قطب مینار کے قریب سروودیا ودیالیہ شامل ہیں۔ ای میلز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان مقامات پر دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا ہے۔ اس سے شہر میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیل گیا۔
اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آئیں۔ متاثرہ مقامات پر وسیع پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی گئی، تاہم سیکورٹی ایجنسیوں کو اب تک کی تحقیقات میں کوئی مشکوک چیز نہیں ملی ہے۔ یہ دھمکیاں بظاہر جعلی معلوم ہوتی ہیں۔یہ دہلی میں بم دھمکیوں کی کوئی نئی لہر نہیں ہے۔
پچھلے چند مہینوں میں اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور ہوائی اڈوں کو بار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر دھمکیاں جعلی ثابت ہوئی ہیں۔ اس سے عوام میں بے چینی کے ساتھ ساتھ حکام کے لیے بھی چیلنجز بڑھ گئے ہیں۔دہلی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ سیکورٹی انتظامات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ای میلز کی صداقت اور ان کے پیچھے کے مقاصد کے بارے میں واضح تصویر سامنے آئے گی۔ پولیس اس معاملے کی گہرائی سے چھان بین کر رہی ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔