Express News:
2026-07-23@23:54:49 GMT

کراچی: کمسن بچی پانی کی بالٹی میں گرنے سے ڈوب کر جاں بحق

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

جوہر آباد کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 15 میں قائم رہائشی عمارت کی دوسری منزل کے فلیٹ میں پانی کی بالٹی میں گر کر کمسن بچی جاں بحق ہوگئی جس کی لاش کو عباسی شہید اسپتال لیجائی گئی۔

ایس ایچ او جوہر آباد راشد الرحمٰن نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جبکہ متوفیہ بچی کی شناخت تین سالہ ایمن فاطمہ دختر مزمل کے نام سے کی گئی جبکہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بچی کے والدین میں علیحدگی ہوچکی ہے اور متوفیہ بچی اپنے والد مزمل کے ساتھ ایک ماہ سے رہے رہی تھی جبکہ مزمل جس فلیٹ میں رہائش پذیر ہے اس میں اس کا بھائی، بھابھی ان کے بچے اور والدہ مقیم ہیں۔ مزمل تو کام پر گیا ہوا تھا جبکہ بچی گھر میں دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ واش روم میں پانی سے بھری ہوئی بالٹی میں گرنے کی وجہ سے ڈوب گئی جس کی اطلاع پر ملنے پر بچی کی چچی نے فوری طور پر ایمن فاطمہ کو بالٹی سے نکالا تو وہ دم توڑ چکی تھی۔

راشد الرحمٰن نے مزید بتایا کہ بچی کی والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ میری بیٹی کو مبینہ طور پر والد نے قتل کیا ہے جس پر پولیس بچی کی والدہ کے دعوے پر مزید چھان بین کر رہی ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بچی کی

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل