اسلام آباد (خبر نگار+ نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) سابق وزیراعظم عمران خان کی صحافی کے ساتھ بدتمیزی، سوشل میڈیا پر صحافیوں کے ہراساں کرنے اور ٹرینڈ چلانے پر ایوان میں مذمتی قرارداد  منظور کر لی گئی۔ مسلم لیگ ن کے رکن ملک ابرار احمد، ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان خواجہ اظہار الحسن اور امین الحق نے مذمتی قرارداد پیش کی گئی۔ پارلیمنٹیری رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (پی آر اے) نے قومی اسمبلی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔ یہ احتجاج پی آر اے پاکستان کی الیکشن کمیٹی کے زیر اہتمام بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے سینئر صحافی اعجاز احمد کے ایک سوال کے جواب میں نامناسب الفاظ استعمال کرنے اور گالی گلوچ کرنے کے تناظر میں کیا گیا۔ واک آؤٹ کے دوران صحافیوں نے کہا کہ ایسے رویے سے صحافیوں کی تضحیک اور پارلیمانی اقدار کو مجروح کیا گیا ہے، جس کی وہ بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ پی آر اے کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کے ساتھ باعزت اور شائستہ رویہ اپنایا جانا چاہیے۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے صحافیوں کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کو ہدایت دی کہ وہ پارلیمنٹیری رپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ بات چیت کریں اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں۔ قومی اسمبلی کی ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں  ہوا۔  قومی اسمبلی کا حالیہ اجلاس 10 اکتوبر 2025ء بروز جمعہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا  میری خواہش ہے کہ اپوزیشن ارکان قائمہ کمیٹیوں کا حصہ رہیں۔ اجلاس میں ممبر قومی اسمبلی جیند اکبر کے والد اور مولانا غفور حیدری کی ساس کے لئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ قومی اسمبلی نے ملک میں کاروباری سہولتوں کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کیلئے ’’آسان کاروبار بل 2025‘‘ کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم میں کاروباری رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے، سرمایہ کاروں کیلئے قانونی رکاوٹوں میں کمی اور چھوٹے ودرمیانے درجے کے کاروباروں کو خصوصی سہولتیں دینے جیسے نکات شامل ہیں۔ پی ٹی آئی  کے  ارکان مسلسل شور شرابہ اور احتجاج کرتے رہے۔ سابق فاٹا میں آپریشن کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی کی گئی۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں 80 ہزار سے زائد لوگ دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں اور پی ٹی آئی کے لوگ اس ایوان میں کھڑے ہو کر خوارج کے حق میں احتجاج اور تقریریں کر رہے ہیں، اس کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔  پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع  نے کہا کہ ان لوگوں نے 2022ء  میں افغانستان سے طالبان اور دہشت گردوں کو لا کر آباد کیا اور اب وہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ ان کو سپورٹ کر رہے ہیں، ایسے نام نہاد نمائندوں کا نوٹس لیا جائے، ان کی صوبائی حکومت دہشت گردوں کو فنڈنگ کر رہی ہے، یہ قوم اور شہداء  کے ساتھ زیادتی اور مذاق ہے، کیا آپ ایک اور 9 مئی چاہتے ہیں؟۔ قومی  اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ   اسلام آبادکے سیکٹر ای 12، سی 13، سی 14، سی 15، سی 16 اورایچ 16میں اراضی مالکان کو ادائیگیوں کا عمل تیز کیا جائے گا، مجموعی طورپر 3611 افراد میں سے 3301 متاثرین کو ادائیگیاں ہوچکی ہیں اور 250 کو ادائیگیاں کرنا باقی  ہیں۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسلام آبادکے سیکٹر ای 12، سی 13، سی 14، سی 15، سی 16 اور ایچ 16میں اراضی مالکان کو ادائیگیوں میں تاخیر سے متعلق انجم عقیل خان کے توجہ مبذول نوٹس پر وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے ایوان کوبتایا کہ اراضیوں کے مالکان کو ادائیگیوں کا عمل طویل ہوتا ہے۔ سپیکر نے یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ وفاق اور صوبائی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے کاموں میں بھرپور انداز میں حصہ لے رہے ہیں۔ سروے کے نتیجہ میں تعمیرنو اور بحالی کے عمل میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حالیہ سیلاب کے دوران ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تحصیل کمالیہ، تحصیل پیرمحل، تاندلیانوالہ اور چیچہ وطنی میں این ڈی ایم اے کی کارگردگی سے متعلق محمد ریاض فتیانہ کے توجہ مبذول نوٹس پر وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ آفات سے نبرد آزما ہونے کیلئے این ڈی ایم اے بھرپورکوشش کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی کے ساتھ رہے ہیں نے کہا

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن